LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے معاہدے میں تمام فریقین کے خدشات دور کرنا ضروری ہیں: قطر یقین ہے آرمینیا ایران کی سلامتی کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا: عباس عراقچی ٹرمپ نے ایران کیخلاف کوئی اقدام کیا تو خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا: ابراہیم عزیزی وفاقی حکومت نے گورنر خیبرپختونخوا کی تبدیلی کا امکان مسترد کردیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا کو پانچ روز بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا ریلوے کوچز کے پرزوں کی بروقت خریداری نہ ہونے پر وفاقی وزیر برہم، انکوائری کا حکم استنبول میں سیلاب سے جانی نقصان پر شہباز شریف کا اظہار افسوس گورنر پنجاب نے اپنی استاد کو گورنر ہاؤس میں اپنی کرسی پر بٹھا دیا نشے کی حالت میں خاتون کی گاڑی کو ٹکر مارنے والا پولیس اہلکار گرفتار پٹرول مزید 3 روپے 93 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت برقرار فضل الرحمٰن سے دہشتگردوں کے پشت پناہوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی: مریم نواز پرامن یورپی شہریوں کیلئے روس کے دروازے بند نہیں ہونگے: ماریہ زخارووا امریکا ایران جنگ سے عراق کو 60 ارب ڈالر کا نقصان ہوا سندھ حکومت کا انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا فیصلہ پاکستان عالمی سطح پر اہم معدنیات کی نئی منزل بننے کی جانب گامزن

بھارتی اخبار دی ہندو نے 2025 کو بھارت کی عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سال قرار دیدیا

Web Desk

27 December 2025

بھارتی جریدے دی ہندو نے 2025 کو بھارت کی عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سال قرار دیا اور کہا کہ نریندر مودی سے وابستہ توقعات حقیقت میں تبدیل نہ ہو سکیں۔ جریدے کے مطابق علامتی سفارت کاری، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی بھارت کی معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا نعم البدل ثابت نہ ہو سکی۔

دی ہندو نے لکھا کہ بھارت نے امریکا، روس اور چین کے ساتھ وعدے کیے جن پر عمل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا، اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں 2025 بھارت کے لیے مشکل ترین سال رہا۔ اخبار نے پہلگام اور سندور آپریشنز کو بھی ناکامی قرار دیا، اور کہا کہ سعودی-پاکستان دفاعی معاہدہ بھارت کے لیے ایک دھچکا تھا۔

جریدے نے مزید کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات اب تک کی سب سے کشیدہ سطح پر ہیں، اور بھارت کا دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا اصلاح اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ماہرین کے مطابق دی ہندو کی رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی تصدیق کرتی ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی زیادہ تر بیانیہ پر مبنی ہے، عملی نتائج پر نہیں، اور بھارت اب امریکا کے لیے ناگزیر اسٹریٹجک شراکت دار نہیں رہا۔