LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر اعظم شہباز شریف دورہ امریکا اور برطانیہ کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ایران کی صورتحال بہت خراب ہے، نہیں معلوم کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں: صدر ٹرمپ سعودی ولی عہد کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ کے قیام میں پیشرفت کا جائزہ خلیج کا بحران نہ پیدا ہوتا تو پاکستان دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح بہت آگے جا چکا ہوتا: وزیر اعظم اڈیالہ جیل میں قید بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات کرا دی گئی مراکش کے بادشاہ نے فاطمہ زہرا کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر کردیا بینظیر بھٹو شہیدیونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر نے سیاسی دباؤ بڑھنے پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا ایران پر حملے: یورپی یونین بھی شدید متاثر، فیول امپورٹ بل 100 ارب یورو سے بڑھ گیا سعودی ولی عہد اور امیر قطر کا رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال عراق سے امریکی افواج کا دو دہائیوں بعد انخلا شروع برطانیہ کی امریکا کے زیر استعمال ایئربیس پر دہشتگردی کے شواہد نہ ملنے کی تصدیق انتظامی یونٹس بنانے کی ہماری بات 12 سال بعد سب کو سمجھ آ گئی: علی خورشیدی پاکستان قبائل موومنٹ کی نئے انتظامی یونٹس بارے ایم کیو ایم کے مؤقف کی حمایت انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا آج آخری روز، عدم ادائیگی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ ایران کے ساتھ معاہدے کی گنجائش موجود ہے: جے ڈی وینس

خیبرپختونخوا میں امن کی صورتحال ابتر، پولیس کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا: اختیار ولی خان

Web Desk

30 September 2026

وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی اختیار ولی خان نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ صوبائی پولیس کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ دنیا نیوز کے معروف پروگرام ‘نقطہ نظر’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کے پی پولیس کے پاس جدید ترین ہتھیاروں اور بلٹ پروف گاڑیوں کی شدید قلت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے پولیس فورس کو تمام تر مطلوبہ وسائل اور جدید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔

اختیار ولی خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اہم ترین ریاستی اور انتظامی امور سے بالکل غافل ہیں، اور ان کے مقابلے میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پولیس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تابع کرنا چاہتی ہے، جس سے امن و امان مزید تباہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزرا کی گاڑیاں سمگلنگ کے الزامات میں ضبط ہو چکی ہیں اور بعض پر ڈرگ مافیا کی سہولت کاری کے الزامات ہیں۔ پی ٹی آئی کے متوقع احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو 4 اکتوبر کا کوئی خوف نہیں، 27 ستمبر کی طرح یہ بھی محض ایک ‘مس کال’ ثابت ہوگی اور وفاقی حکومت نے اس کا مکمل سدِباب کر لیا ہے۔