ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس میں بڑی پیشرفت: اسلام آباد ہائی کورٹ کا اپارٹمنٹ مالکان کو تاحکمِ ثانی بے دخلی سے روکنے کا حکم
Web Desk
25 May 2026
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے معروف ترین اور متنازع پراجیکٹ ”ون کانسٹیٹیوشن ایونیو“ کے سب لیز ہولڈر اپارٹمنٹ مالکان کو ایک بڑا ریلیف دے دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے سی ڈی اے کو حکم دیا ہے کہ اپارٹمنٹ کے مالکان کو تاحکمِ ثانی وہاں سے بے دخل نہ کیا جائے۔
یہ اہم حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس شامل ہیں، نے سابق ایئر چیف مجاہد انور خان، سابق صدر آئی سی سی احسان مانی اور سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد سمیت دیگر معزز شخصیات کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے بعد جاری کیا۔
سماعت کے دوران جب سی ڈی اے کے وکیل کاشف علی ملک ایڈوکیٹ نے یہ انکشاف کیا کہ اس بلڈنگ کو ابھی تک سی ڈی اے کی طرف سے مکمل ہونے کا باقاعدہ سرٹیفکیٹ (Completion Certificate) جاری ہی نہیں ہوا، تو معزز جج برہم ہو گئے۔ ”جب بلڈنگ کو مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ ہی نہیں ملا تھا اور رہائشیوں نے وہاں باقاعدہ رہنا شروع کر دیا، تو اس وقت کیا سی ڈی اے سو رہا تھا؟“
جسٹس انعام امین منہاس نے سی ڈی اے کے وکیل سے سوال کیا کہ ”جو لوگ اس بلڈنگ میں داخل ہوئے اور وہاں رہنے لگے، آپ نے (سی ڈی اے نے) ان کو تسلیم (Recognise) کیوں کیا تھا؟“ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ اپیل کنندگان نے جس سنگل بنچ کے آرڈر کو چیلنج کیا ہے، اس کے مطابق بھی ان کا حق تو موجود نظر آتا ہے۔سماعت کے دوران اپیل کنندگان اور سی ڈی اے کے وکلاء کے مابین شدید بحث دیکھنے کو ملی وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے پہلے ہی اپارٹمنٹ مالکان کے حقوق کو تسلیم کر چکا ہے اور ان سے 15 یا 18 فیصد لیز کی رقم بھی وصول کی جا چکی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ”کیا سی ڈی اے عید کے دنوں میں ان اپارٹمنٹس کا قبضہ لینا چاہتا ہے؟“ وکیل سردار تیمور اسلم نے بتایا کہ اس معاملے پر وزیراعظم نے بھی ایک کمیٹی بنا رکھی ہے جس کی سفارشات وفاقی کابینہ اور پھر سی ڈی اے بورڈ میں جانی ہیں۔ اس وقت ریزیڈنس کمیٹی بلڈنگ چلا رہی ہے، لہذا سی ڈی اے کو اس پر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔سی ڈی اے کے وکیل نے ان اپیلوں کی قانونی حیثیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ”ہمارا موقف ہے کہ یہ اپیلیں قابلِ سماعت ہی نہیں ہیں۔“ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین سی ڈی اے بیرونِ ملک تھے اور کل ہی واپس آئے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے عدالت میں جواب جمع کرا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنگل بنچ کے فیصلے کے پیراگراف 30 کے ساتھ ساتھ پورے فیصلے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
معزز عدالت نے واضح کیا کہ کیس کے تفصیلی قانونی نکات کو بعد میں سنا جائے گا، لیکن آج عدالت نے صرف حکمِ امتناع (اسٹے) کی حد تک درخواست کو دیکھنا تھا۔
دونوں اطراف کے دلائل سننے اور عدالتی حکم پر سنگل بنچ کے فیصلے کا متعلقہ پیراگراف پڑھے جانے کے بعد، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپارٹمنٹ مالکان کے تھرڈ پارٹی رائٹس (Third-Party Rights) کے تحفظ کی درخواست منظور کرتے ہوئے تاحکمِ ثانی ان رہائشیوں کو بے دخل کرنے سے روک دیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط
25 May 2026
پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان
25 May 2026
ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا
25 May 2026
صدر زرداری کی ماحولیاتی اور فوجداری اصلاحات کی منظوری
25 May 2026
وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو
25 May 2026
وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش
25 May 2026
کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم کا خود کیس لڑنے کا اعلان
25 May 2026
عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم
25 May 2026