LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے: قمر زمان کائرہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کی سہولت کار ثابت کر رہی ہے: گورنر کے پی

مستقبل میں صحت کے نظام کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی ضرورت، بروقت اقدامات نہ ہوئے تو قومی بحران،وزیر صحت

Web Desk

11 February 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے وفاقی پروگرام “حفاظتی ٹیکہ” میں سولر سسٹم کی انسٹالیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی صحت کے نظام کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔

مصطفی کمال کے مطابق آج صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون 49 فیصد ہے، جو 2031 تک ختم ہو جائے گا۔ مستقبل میں حکومت کو 1.2 بلین ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے، جو حکومت اور معیشت پر بوجھ ڈالیں گے۔

وزیر صحت نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو قومی صحت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند سال قبل کورونا کے دوران امریکہ، چین، بھارت اور یورپ سمیت تمام ممالک کا صحت نظام ناکام ہوا، اور پاکستان میں صحت کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں، اور یہ سب صحت یا بیماریوں کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہیلتھ کیئر صرف ہسپتال بنانا نہیں بلکہ لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے، اور صحت کی خدمات بچے کی پیدائش سے شروع ہوتی ہیں۔

وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان انڈونیشیا، چین اور سعودی عرب سے جدید ٹیکنالوجی لے رہا ہے، اور سعودی عرب کا 11 رکنی وفد حال ہی میں پاکستان کا دورہ کر چکا ہے تاکہ صحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔