LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الجزائر کا اماراتی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا اعلان این سی سی آئی اے میں نفری کم، وفاقی پولیس کا 23 افسران بھجوانے کا فیصلہ روس کے سرحدی علاقے میں یوکرینی ڈرون حملہ، 2 افراد ہلاک، 7 زخمی روس کے یوکرین کے صنعتی شہر پاولو ہراد پر حملے، 7 افراد ہلاک، 76 زخمی سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے، عبدالعزیز الوصل جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام

مستقبل میں صحت کے نظام کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی ضرورت، بروقت اقدامات نہ ہوئے تو قومی بحران،وزیر صحت

Web Desk

11 February 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے وفاقی پروگرام “حفاظتی ٹیکہ” میں سولر سسٹم کی انسٹالیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی صحت کے نظام کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔

مصطفی کمال کے مطابق آج صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون 49 فیصد ہے، جو 2031 تک ختم ہو جائے گا۔ مستقبل میں حکومت کو 1.2 بلین ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے، جو حکومت اور معیشت پر بوجھ ڈالیں گے۔

وزیر صحت نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو قومی صحت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند سال قبل کورونا کے دوران امریکہ، چین، بھارت اور یورپ سمیت تمام ممالک کا صحت نظام ناکام ہوا، اور پاکستان میں صحت کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں، اور یہ سب صحت یا بیماریوں کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہیلتھ کیئر صرف ہسپتال بنانا نہیں بلکہ لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے، اور صحت کی خدمات بچے کی پیدائش سے شروع ہوتی ہیں۔

وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان انڈونیشیا، چین اور سعودی عرب سے جدید ٹیکنالوجی لے رہا ہے، اور سعودی عرب کا 11 رکنی وفد حال ہی میں پاکستان کا دورہ کر چکا ہے تاکہ صحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔