LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کا سعودی عرب کے دو فوجی طیارے تباہ کرنے، فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھارتی جیلوں سے رہائی پانے والے 4 پاکستانی ماہی گیر ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے آبنائے ہرمز سے امریکی افواج کے انخلا کا ایرانی دعویٰ غلط ہے، امریکی سینٹکام روس کو عالمی گیس مارکیٹ سے نکالنے کی کوششوں کے سنگین نتائج ہوں گے، صدر پوتن خطے میں کشیدگی سے عالمی بحران پیدا ہوا اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں: احسن اقبال ایاز صادق کے چیمبر میں پیپلز پارٹی اور حکومتی وفود کی ملاقات، نئے بلز پر تحفظات کا اظہار امریکا کی مغربی ایشیا کو سکیورٹی ضمانتیں دینے میں ناکامی واضح ہوچکی: محسن رضائی پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہتے ہیں، حکومت کو 10 روز کی مہلت دے رہے: حافظ نعیم الرحمٰن فیصلہ سنا چکے، سندھ کی قسمت کا فیصلہ یہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں: بلاول بھٹو برطانیہ میں امریکی ایئربیس واقعے میں ملوث دو افراد پر فرد جرم عائد اسلام آباد ماڈل جیل کی تعمیر مکمل، افتتاح کے بعد قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا: محسن نقوی 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ریلوے نے آؤٹ سورس ٹرینوں میں بھی رعایتیں دینا لازمی قرار دے دیا پرائیویٹ حج اسکیم میں 80 فیصد بکنگ مکمل: عازمین نے 57.5 ارب روپے جمع کروا دیے، وزارتِ مذہبی امور کی ہدایت قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر پر بھارت کے خلاف مذمتی قرار داد منظور

مستقبل میں صحت کے نظام کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی ضرورت، بروقت اقدامات نہ ہوئے تو قومی بحران،وزیر صحت

Web Desk

11 February 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے وفاقی پروگرام “حفاظتی ٹیکہ” میں سولر سسٹم کی انسٹالیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی صحت کے نظام کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔

مصطفی کمال کے مطابق آج صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون 49 فیصد ہے، جو 2031 تک ختم ہو جائے گا۔ مستقبل میں حکومت کو 1.2 بلین ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے، جو حکومت اور معیشت پر بوجھ ڈالیں گے۔

وزیر صحت نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو قومی صحت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند سال قبل کورونا کے دوران امریکہ، چین، بھارت اور یورپ سمیت تمام ممالک کا صحت نظام ناکام ہوا، اور پاکستان میں صحت کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں، اور یہ سب صحت یا بیماریوں کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہیلتھ کیئر صرف ہسپتال بنانا نہیں بلکہ لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے، اور صحت کی خدمات بچے کی پیدائش سے شروع ہوتی ہیں۔

وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان انڈونیشیا، چین اور سعودی عرب سے جدید ٹیکنالوجی لے رہا ہے، اور سعودی عرب کا 11 رکنی وفد حال ہی میں پاکستان کا دورہ کر چکا ہے تاکہ صحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔