LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرولیم ڈیلرز کی حکومت کو 26 مارچ تک ڈیڈ لائن، مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں پمپ بند کرنے کی دھمکی ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار لکی مروت میں دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری جمعة الوداع کے اجتماعات، یوم القدس کی ریلیاں، سکیورٹی ہائی الرٹ ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھ گئیں مشرقِ وسطیٰ کیلئے پاکستان سے پروازوں کا آپریشن بتدریج بحال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کر دیا امریکی ایندھن بردار طیارہ عراق میں گر کر تباہ، 6 افراد سوار تھے یوم القدس اور متوقع جمعۃ الوداع کے موقع پر سندھ میں آج سرکاری تعطیل ہوگی دبئی حکومت نے عیدالفطر کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کردیا

ایران کے مسلسل حملے، خلیجی ممالک کو میزائل گرانے والے انٹرسیپٹرز کی کمی کا خدشہ

Web Desk

3 March 2026

ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر سے متعلق خدشات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے میزائل اور ڈرون مار گرانے والے انٹرسیپٹرز استعمال ہو رہے ہیں، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر متعلقہ ممالک کو کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران دفاعی نظام پر غیر معمولی دباؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تاہم متحدہ عرب امارات اور قطر نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستوں کے پاس امریکی فوجی نظام کے ساتھ دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام موجود ہیں اور وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق یوکرین میں جاری چار سالہ جنگ کے دوران معاونت کے بعد امریکی محکمہ دفاع کے پاس بھی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے میزائلوں کا ذخیرہ بتدریج کم ہو رہا ہے، جس کے باعث خطے کی مجموعی دفاعی صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔