LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی عمران سرور نیشنل بینک آف پاکستان کے نئے صدر مقرر افغانستان سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، 15 ہلاک یسین ملک کا بھارتی عدلیہ پر اظہارِ عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار انڈونیشیا میں حکومت کا مفت کھانا، تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز پاکستان نے یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے: وزیر خزانہ جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف آج ملک گیر ہڑتال مومنہ اقبال ہراسگی کیس: تفتیش میں ثاقب چڈھر اور اہلیہ سمیرا بے قصور قرار 100 سال میں امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے پہلے زندہ صدر نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت

واشنگٹن ڈی سی فائرنگ کے بعد امریکا کا بڑا اقدام، 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کی سخت جانچ شروع

Web Desk

28 November 2025

واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ’’تھرڈ ورلڈ‘‘ ممالک سے امیگریشن کو مستقل طور پر روکنے کے لیے گرین کارڈ ہولڈرز کی جانچ شروع کر رہا ہے۔ اس اقدام کے تحت 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے قانونی مستقل رہائشیوں کے گرین کارڈز کا ’’فل اسکیل ریویو‘‘ کیا جائے گا۔

USCIS کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے کہا کہ افسران کو ملک سے تعلق رکھنے والے ’’خطرات‘‘ کو منفی عنصر کے طور پر دیکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور امریکی عوام کی حفاظت سب سے اہم ہے۔

USCIS کی لسٹ میں افغانستان، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، یمن، سوڈان، میانمار اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ ان میں سے 12 ممالک پر مکمل سفری پابندی جبکہ سات پر جزوی پابندیاں لاگو ہیں۔ تقریباً 33 لاکھ گرین کارڈ ہولڈرز ان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں کیوبا، ہیتی، ایران اور وینزویلا کی بڑی کمیونٹیز شامل ہیں۔

ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ ’’تمام تھرڈ ورلڈ ممالک سے مائیگریشن مستقل طور پر معطل‘‘ کریں گے اور بائیڈن دور میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا عندیہ دیا۔ تاہم، پہلے سے اسائلم، ریفیوجی یا CAT پروٹیکشن حاصل کرنے والے افراد اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔

اس اقدام سے ہزاروں خاندان، کاروبار اور امیگریشن پروگرام متاثر ہو سکتے ہیں، اور سکیورٹی ایجنسیاں مزید جائزوں کی تیاری کر رہی ہیں۔