LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس چین ویزا فری نظام مستقل کرنے پر تیار، صدر پوتن کا اعلان روس اور بیلاروس کے صدور کی ملاقات، تجارت اور عالمی امور پر گفتگو بات پکی ہوئی نہ منگنی، بلاول بھٹو بھی جعلی خبروں پر بول پڑے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافہ ملک میں مہنگائی کا طوفان، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے: حافظ نعیم الرحمان 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی ہے: لاہور ہائیکورٹ سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا وفاقی حکومت کا پنجاب کا ای بز پورٹل اسلام آباد میں نافذ کرنے کا فیصلہ حکومت کا ایل این جی کا ایک اسپاٹ کارگو خریدنے کا فیصلہ، ٹینڈر جاری سانحہ پمز کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست، حکومت سے تفصیلی جواب طلب کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ریگولیٹ کرنے کی درخواست پر نوٹس مکہ میوزیم میں قرآن مجید کے نایاب نسخے کے صفحے کی نمائش نیپال اور تبت میں سیلاب کا چھٹا روز، ہلاکتیں 900 سے متجاوز، 4247 افراد لاپتہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ میں اہم ملاقاتیں، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال شہباز شریف اور ازبک صدر کی ملاقات، دوطرفہ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم

وزیراعظم کے دورۂ گلگت پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، مسلم لیگ ن کے 7 رہنماؤں کو نوٹس جاری

Web Desk

10 May 2026

گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ گلگت کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر پاکستان مسلم لیگ ن کے 7 امیدواروں اور رہنماؤں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 7 مئی کو وزیراعظم کے دورے کے دوران این او سی میں دی گئی شرائط اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی، جس پر ضلعی مانیٹرنگ افسر نے کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ رہنماؤں کو نوٹس ارسال کیے۔

نوٹس جاری کیے جانے والوں میں سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور صدر مسلم لیگ ن گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، ڈاکٹر محمد اقبال، عتیق الرحمان، محمد عالمگیر، رانا فرمان، حبیب اللہ اور شفیق الدین شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام رہنماؤں کو 12 مئی کو دوپہر 2 بجے ڈپٹی کمشنر گلگت کے دفتر میں ذاتی حیثیت یا اپنے وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ وقت میں وضاحت جمع نہ کرانے کی صورت میں الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ شفاف انتخابی عمل برقرار رکھا جا سکے۔