LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان، زمینی فوج بھیجنے کا امکان بھی مسترد کر دیا آبنائے ہرمز کی مکمل نگرانی جاری، ایرانی فوج جنگ کیلئے تیار ہے: امیر حاتمی امریکی رکن کانگریس الہان عمر کیخلاف تحقیقات، موبائل ضبط، اہلخانہ سمیت متعدد افراد کو سمن جاری شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی آج 75 ویں برسی منائی جا رہی ہے حرمین شریفین کے دفاع کے لئے ہم متحد ہیں: ترجمان سعودی فوجی اتحاد روسی فوج کا خارکوف میں 2 آبادیوں پر کنٹرول، یوکرینی فوج کو 1,105 اہلکاروں کا نقصان سانحہ پشاور: تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ کمشنر کو جمع کرا دی پاکستان، جنوبی کوریا اور مصر کے درمیان بڑی سرمایہ کاری کی تیاریاں، دبئی میں اہم ملاقات پیپلزپارٹی نے کوشش کی مذاکرات کی میز پر معاملات حل کر لئے جائیں: شیری رحمان ریڈیو فری یورپ نے طالبان رجیم کے واخان منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیدیا البانیہ میں حکومت مخالف احتجاج پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل، 29 افراد زخمی سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، حقِ دفاع کی توثیق یورپ میں منجمد روسی اثاثے امریکی کنٹرول میں دینے کی کوششوں سے لاعلم ہیں: کریملن روسی ڈیزل کی امریکا کو پہلی کھیپ 2 سے 3 ہفتوں میں بھیجی جا سکتی ہے، الیگزینڈر نوواک حوثی میزائلوں کے پرزے 16 ممالک سے یمن پہنچنے کا انکشاف

گورنر راج کا دو ماہ بعد بھی جائزہ لیا جا سکتا، مذاکرات کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے: خواجہ آصف

Web Desk

16 October 2026

 پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ کے تیسرے روز صوبے میں وفاقی اقدامات کے خلاف بدامنی، احتجاج یا جلسے جلوسوں کے آثار دکھائی نہیں دیے جب کہ ان اقدامات پر ردعمل زیادہ تر قانونی اور آئینی بحث تک محدود ہے۔

انہوں نے کہا خیبر پختونخوا کی سابقہ حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تیرہ سال تک کرپشن ہوتی رہی ہو تو اس کے نتائج ایسے ہی نکلتے ہیں کہ چھتیں گرنے لگتی ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر گورنر راج نافذ نہ کیا جاتا تو، ان کے بقول، متعلقہ حکمرانوں کے بس میں ہوتا تو پورے صوبے کی چھتیں گر جاتیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے چھ ماہ بعد صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم یہ جائزہ دو ماہ بعد بھی ممکن ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں وفاقی اقدامات کے خلاف زمینی سطح پر کوئی نمایاں ردعمل سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے سیاسی مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتے اور مذاکرات کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کو پورا وقت دیا، لیکن بالآخر دستیاب گنجائش ختم ہوگئی۔

وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والے افراد وزیر اعلیٰ سے ہدایات لیتے تھے، جبکہ وزیر اعلیٰ خود ایسے شخص سے ہدایات لیتے تھے جو افغانستان میں بیٹھا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہوئی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور دل کی بھڑاس نکالنے کا پورا موقع دیا گیا۔

اُن کا صوبے میں مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے کہنا تھا کہ وہاں لوٹ مار کرنے والے افراد غائب ہوگئے ہیں اور ان کے مطابق ایک شخص کو پکڑا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر مذکورہ شخص کی شناخت یا گرفتاری کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں احتجاج یا بدامنی کے آثار دکھائی نہیں دیے اور وفاقی اقدامات پر فی الحال قانونی و آئینی بحث جاری ہے۔

خواجہ آصف کا محمود خان اچکزئی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے ساتھ پرانے روابط ہیں اور وہ پرانی سیاست کی پیداوار ہیں، سیاسی اختلافات کے باوجود تعلقات ختم نہیں کیے جاتے اور ناطے نہیں توڑے جاتے۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں بہت اچھی حکومت ہے اور افغان مہاجرین وہاں جا کر رہ سکتے ہیں، انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ افغان مہاجرین وہاں دودھ اور شہد کی نہروں سے فائدہ اٹھائیں۔