LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
این اے 77 گوجرانوالہ اور پی پی 203 چیچہ وطنی میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا آغاز برطانیہ کی اپیل کورٹ نے شامی پناہ گزین کے معاملے میں حکومتی قانونی غلطی کی نشاندہی کردی آبنائے ہرمز کے قریب 2 آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے: پاسداران انقلاب امریکی فوج نے ایران سے آنیوالے بحری جہاز کو حملہ کرکے ناکارہ بنادیا خلیج عمان میں کارگو جہاز میں آگ لگنے کے بعد اماراتی نیشنل گارڈز نے عملے کے 22 ارکان کو ریسکیو کر لیا غزہ میں بارش سے بے گھر فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ، 70 ہزار سے زائد خیمے زیر آب انتونیو گوتریس کا انروا کیلئے مکمل فنڈنگ کا مطالبہ، فلسطینیوں کی خدمات جاری رکھنے پر زور معروف شاعر جون ایلیا کی 24ویں برسی آج منائی جا رہی ہے دبئی میں پاکستان انٹرنیشنل پراپرٹی ایکسپو کا 14واں ایڈیشن شروع، اربوں روپے کے منصوبوں کی نمائش آپریشن فجر الیمن: حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر 875 حملے، 130 ہلاک یا غیر مؤثر ہونے کا دعویٰ جو شہر پال رہا ہے اسے زندہ رہنے دیں، کراچی پر بھی کرم نوازی کریں: خالد مقبول سعودی وزیر خارجہ کے قطر اور مصر کے ہم منصبوں سے رابطے، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پولینڈ کے شہر کراکوف میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، 15 زخمی ایران نے میزائل اور ڈرون کی پیداواری لائنیں زیر زمین منتقل کر دیں، پاسداران انقلاب ایران کو روس سے جدید ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم ملنے کا امکان، معاہدہ طے پا گیا

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کیس

Web Desk

17 December 2025

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے مقدمے میں منشیات کے الزامات ختم کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی۔

دورانِ سماعت مطیع اللہ جان اپنے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق اور ایڈوکیٹ احد کھوکھر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ بیرسٹر میاں علی اشفاق نے عدالت سے استدعا کی کہ منشیات کے الزام میں مطیع اللہ جان کو کیس سے ڈسچارج کیا جائے اور اس حوالے سے دفعہ 265-ڈی پڑھ کر سنائی۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی درخواست کی مخالفت کی۔ بیرسٹر میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کی مبینہ ریکوری میں نہ کوئی پرائیویٹ گواہ شامل ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، جو کیس کو مشکوک بناتی ہے۔

دلائل کے دوران بیرسٹر میاں علی اشفاق کی جانب سے ماضی کے سپریم کورٹ کے حوالے سے “ڈوگر کورٹ” کا لفظ استعمال کیے جانے پر عدالت نے انہیں ایسے الفاظ کے استعمال سے روک دیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا منشیات کے کیسز میں ویڈیو ریکارڈنگ ضروری ہے اور اگر نہیں تو اس کے قانونی اثرات کیا ہوں گے۔

بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ مطیع اللہ جان ایک سینئر اور مستند صحافی ہیں، جبکہ اس کیس میں صحافی کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر کا بیانِ حلفی بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ منشیات کے چارجز کی حد تک دلائل کو سراہتی ہے، تاہم درخواست کی استدعا اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔

پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اپنے 17 اکتوبر کے آرڈر میں منشیات کے الزامات پر بادی النظر میں رائے دے چکی ہے۔ جج طاہر عباس سپرا نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت چارج فریم کرنے کی اسٹیج نہیں آئی تھی۔ عدالت نے ویڈیو ریکارڈنگ نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا، جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ویڈیو کیوں نہیں بنائی گئی، اس کا جواب وہ نہیں دے سکتے، تاہم یہ معاملہ ٹرائل کے دوران گواہوں سے پوچھا جا سکتا ہے۔

فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عدالت نے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔