LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کیس

Web Desk

17 December 2025

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے مقدمے میں منشیات کے الزامات ختم کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی۔

دورانِ سماعت مطیع اللہ جان اپنے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق اور ایڈوکیٹ احد کھوکھر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ بیرسٹر میاں علی اشفاق نے عدالت سے استدعا کی کہ منشیات کے الزام میں مطیع اللہ جان کو کیس سے ڈسچارج کیا جائے اور اس حوالے سے دفعہ 265-ڈی پڑھ کر سنائی۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی درخواست کی مخالفت کی۔ بیرسٹر میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کی مبینہ ریکوری میں نہ کوئی پرائیویٹ گواہ شامل ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، جو کیس کو مشکوک بناتی ہے۔

دلائل کے دوران بیرسٹر میاں علی اشفاق کی جانب سے ماضی کے سپریم کورٹ کے حوالے سے “ڈوگر کورٹ” کا لفظ استعمال کیے جانے پر عدالت نے انہیں ایسے الفاظ کے استعمال سے روک دیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا منشیات کے کیسز میں ویڈیو ریکارڈنگ ضروری ہے اور اگر نہیں تو اس کے قانونی اثرات کیا ہوں گے۔

بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ مطیع اللہ جان ایک سینئر اور مستند صحافی ہیں، جبکہ اس کیس میں صحافی کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر کا بیانِ حلفی بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ منشیات کے چارجز کی حد تک دلائل کو سراہتی ہے، تاہم درخواست کی استدعا اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔

پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اپنے 17 اکتوبر کے آرڈر میں منشیات کے الزامات پر بادی النظر میں رائے دے چکی ہے۔ جج طاہر عباس سپرا نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت چارج فریم کرنے کی اسٹیج نہیں آئی تھی۔ عدالت نے ویڈیو ریکارڈنگ نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا، جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ویڈیو کیوں نہیں بنائی گئی، اس کا جواب وہ نہیں دے سکتے، تاہم یہ معاملہ ٹرائل کے دوران گواہوں سے پوچھا جا سکتا ہے۔

فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عدالت نے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔