LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ

امریکی صدر کی چینی ہم منصب سے 24 ستمبر کو واشنگٹن میں اہم ملاقات طے

Web Desk

22 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان 24 ستمبر کو واشنگٹن میں ایک اہم سربراہی ملاقات طے پائی ہے۔ ملاقات میں دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ بندی میں توسیع، دوطرفہ تجارت، تائیوان کی صورتحال، مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی اور ایران کے بحران پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، سفارتی ذرائع اس ملاقات سے کسی تاریخی یا بڑے معاہدے کی توقع کے بجائے موجودہ تجارتی کشیدگی کومزید بڑھنے سے روکنے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام لانے کو اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات کے بعد چین کی عالمی تجارت اور معاشی پیشرفت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونِ ملک گرتی ہوئی عوامی مقبولیت اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے اور مہنگے عسکری تنازع میں الجھے ہوئے ہیں جس سے نہ صرف ان کی سیاسی مقبولیت متاثر ہوئی ہے بلکہ امریکی عوام پر مالی اخراجات کا بوجھ بھی بڑھا ہے۔ طاقت کے اس بدلتے ہوئے توازن نے سربراہی ملاقات سے وابستہ توقعات کو محتاط کر دیا ہے کیونکہ صدر شی جن پنگ واشنگٹن کو فوری طور پر کسی بڑی رعایت دینے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے۔