LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان ایران جنگ سے متعلق معلومات لیک ہونے کی امریکی تحقیقات، ذمے دار کی شناخت نہ ہو سکی یوم دفاع و شہدائے پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کا شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت ملک بھر میں یوم دفاع و شہدا آج بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے یوم دفاع و شہدا ہمیں مسلح افواج اور قوم کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، وزیراعظم

ایران نے 48 گھنٹے میں آبنائے ہرمز مکمل نہ کھولی تو سخت کارروائی ہوگی: ٹرمپ

Web Desk

22 March 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحانہ تیور برقرار رکھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے خواہاں نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی عسکری قیادت ختم اور بحری و فضائی قوت تباہ ہو چکی ہے، جس کے باعث اب ایران کے پاس کوئی مؤثر دفاع باقی نہیں رہا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹے کی الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں ‘آبنائے ہرمز’ کو مکمل طور پر نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانا شروع کر دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کارروائی کا آغاز ایران کے سب سے بڑے پاور پلانٹ کی تباہی سے کیا جائے گا۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقررہ شیڈول سے کئی ہفتے آگے ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب، ایرانی حکام نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد کسی بھی قسم کے مذاکرات کی پیشکش کو دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل دونوں فریقین کے درمیان پسِ پردہ بات چیت کے اشارے ملے تھے، مگر حالیہ بیان بازی اور حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر انتہا پر پہنچ گئی ہے اور عالمی منڈی میں توانائی کی ترسیل کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی ہے۔