LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات کرنے والوں کے نام جیل حکام کو ارسال سوات میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی سمیت 200 افراد کیخلاف مقدمہ درج کے پی اور بلوچستان کا کوئی موازنہ نہیں، وفاق کے آئینی اقدام کی حمایت کرتے ہیں: سرفراز بگٹی کے پی اور بلوچستان کا کوئی موازنہ نہیں، وفاق کے آئینی اقدام کی حمایت کرتے ہیں: سرفراز بگٹی میرپورخاص ڈویژن کے تین اضلاع میں 15 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ روپیہ مستحکم، انٹربینک میں ڈالر مزید 3 پیسے سستا ہوگیا یانڈیکس ڈیٹا سینٹرز پر غیر معمولی ڈرون حملے، روس نے حفاظتی اقدامات پر غور شروع کردیا پاکستان اور قطر ثالثی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی مریم نواز نے سوشل سکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کر دیا روس سے تیل کی رسد بڑھنے کی توقعات کے باعث عالمی منڈی میں قیمتیں کم امریکا نے ایران کی کچھ شرائط مان لی ہیں: محسن رضائی کا دعویٰ اسلام آباد پولیس کی 10 بکتر بند گاڑیاں کے پی منتقل چاند نظر آگیا، پاکستان میں کل یکم جمادی الاول ہوگی صوبے کو انتشار نہیں خدمت کی ضرورت ہے، مریم نواز کی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے امور کی نگرانی کیلئے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی

کال سینٹرز جرائم کا گڑھ بن چکے، 60 ملین ڈالر کے فراڈ کئے گئے: وزیر داخلہ سندھ

Web Desk

25 December 2025

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ کراچی میں کال سینٹرز جرائم کا مرکز بن چکے ہیں اور ان کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر فراڈ کیا جا رہا تھا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے انٹیلی جنس بنیادوں پر 18 دسمبر کو ڈی ایچ اے فیز 6 میں ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران 15 غیر ملکی اور 19 پاکستانی شہری گرفتار کیے گئے، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

ضیاء الحسن لنجار کے مطابق گرفتار ملزمان کال سینٹر کے ذریعے بیرونِ ملک افراد کو سرمایہ کاری کے نام پر منافع کا جھانسہ دے کر لوٹ رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تقریباً 60 ملین ڈالر کی ٹرانزیکشنز کی گئی، جو بٹ کوائن اور امریکی ڈالرز میں منتقل کی جاتی تھیں۔ کارروائی کے دوران 37 کمپیوٹرز، 40 موبائل فونز اور 10 ہزار سے زائد سمز برآمد کی گئیں۔

صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ سندھ حکومت غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں ان کیسز کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، اور دو یا تین شہریت رکھنے والے غیر ملکی بھی کال سینٹر میں کام کر رہے تھے۔

این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز نے بتایا کہ گرفتاریاں ڈی ایچ اے فیز 1 اور 6 سے عمل میں آئیں، تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ادارے میں اندرونی احتساب بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرائم کی کوئی سرحد نہیں، ملکی یا غیر ملکی کوئی بھی ملوث ہو سکتا ہے اور ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے فراڈ کیا جا رہا تھا۔