LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یوکرینی صدر زیلنسکی کا روسی آئل ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان ایران جنگ سے یورپی شہریوں کو 100 ارب یورو کا نقصان ہوچکا: سپین امریکا کی ایران کو جوہری معاہدہ نہ کرنے پر تباہ کرنے کیلئے فوجی کارروائی کی دھمکی ایران کی آبنائے ہرمزکھولنے کیلئے 7 روزہ منصوبے کی پھر پیشکش پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر کی سرجری کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج، ویٹی کن پہنچ گئے یورپ کے مختلف ملکوں میں نوجوانوں کے احتجاج شدت اختیار کرگئے یمنی فوج کے 24 گھنٹے میں حوثیوں کیخلاف 1417 حملے، 800 جنگجو ہلاک اور زخمی مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلان حماس کی کارکنوں کو مقبوضہ مغربی کنارے یہودی قبضہ گیروں کیخلاف متحرک ہونے کی ہدایت روس کے زیر قبضہ اولیشکی میں شہری بھوک اور ادویات کی شدید قلت کا شکار ہیں: یوکرین چین: بچوں کو سیسہ آلود خوراک دینے کا الزام، نرسری کی مالکن سمیت 5 ارکان کو قید کی سزائیں مولانا کو خیبر پختونخوا میں حصہ نہیں ملے گا: طلال چودھری پیپلزپارٹی کی بھی مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر شدید تنقید شمال مشرقی سعودی عرب میں ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر پر حملہ سانحہ کارساز کو 19 برس بیت گئے، المناک واقعہ کا دکھ آج بھی تازہ

برطانیہ اور فرانس کا یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

Web Desk

7 January 2026

برطانیہ اور فرانس نے اعلان کیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو دونوں ممالک یوکرین میں اپنی فوج تعینات کریں گے۔ یہ اعلان برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیرس میں یوکرین کے اتحادی ممالک کے اجلاس کے بعد کیا۔

سر کیئر اسٹارمر کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے ایک اعلانِ نیت پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت یوکرین میں مختلف مقامات پر فوجی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان مراکز کا مقصد مستقبل میں کسی بھی ممکنہ روسی جارحیت کو روکنا اور یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی اتحادی یوکرین کے دفاع اور استحکام کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اجلاس کے بعد بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک یوکرین کو مضبوط اور قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ جنگ کے بعد خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

اجلاس میں شریک اتحادی ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کی نگرانی میں امریکہ مرکزی کردار ادا کرے گا۔ تاہم یوکرین کے ان علاقوں کے مستقبل پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا جو اس وقت روس کے کنٹرول میں ہیں۔

واضح رہے کہ روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جو تاحال جاری ہے۔ روس کی جانب سے پہلے ہی خبردار کیا جا چکا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی موجودگی کو ’’جائز ہدف‘‘ سمجھا جائے گا، تاہم پیرس میں ہونے والے ان حالیہ اعلانات پر روسی حکومت نے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔

ماہرین کے مطابق برطانیہ اور فرانس کا یہ اعلان یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کے لیے اب تک کا سب سے مضبوط سیاسی اور عسکری اشارہ ہے، تاہم امن معاہدے، علاقائی تنازع اور روس کے ممکنہ ردِعمل کے باعث اس منصوبے پر عمل درآمد کو کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔