LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کیلئے مذاکرات کر رہا ہوں: امریکی صدر حوثی باغیوں کی سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کے قریب انخلا کی نئی وارننگ جاری یمنی افواج کی پیش قدمی جاری، شدید جھڑپیں، سناماہ اور سراری محاذوں پر کامیابی کا دعویٰ ایران کا خطے میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی ترسیل کو کنٹرول کرنے کیلئے نیا ادارہ قائم کرنے کا اعلان روسی وزیر خارجہ آج تہران کا دورہ کرینگے، دو طرفہ معاہدوں کا جائزہ لیا جائیگا ہمیں پر امن مظاہرین اور تخریب کاروں میں فرق کرنا ہوگا: فرانسیسی صدر امریکی حکام کا مقبوضہ مغربی کنارے کے مسیحی فلسطینی گاؤں طیبہ کا دورہ امارات کی جانب سے غزہ میں 60 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان پہنچا دیا گیا آسٹریلین ایئر لائنز کی پرواز میں بم کی اطلاع، طیارے کی بلغاریہ میں ہنگامی لینڈنگ البرٹا کے فوجی اڈے میں آتشزدگی، 4 کینیڈین فوجی ہلاک، درجنوں افراد زخمی امریکا نے یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع کردی: صدر زیلنسکی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بریسٹ کینسر سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے اٹلی: مہنگائی، ناقص عوامی خدمات کیخلاف احتجاج، جھڑپیں، شیلنگ، واٹر کینن کا استعمال وزیراعلیٰ سندھ کو میر رضا کیس سے متعلق سیلڈ رپورٹ موصول روس کا ایران اور امریکہ سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنے کا مطالبہ

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بریسٹ کینسر سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے

Web Desk

19 October 2026

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد خواتین میں اس موذی مرض کے علامات، بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

پاکستان میں یہ مرض انتہائی تشویشناک صورتِ حال اختیار کر چکا ہے اور اعداد و شمار کے مطابق ہر 9 میں سے ایک پاکستانی خاتون کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں چھاتی کے سرطان کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد مختلف قسم کے کینسر کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے سالانہ 90 ہزار سے زائد خواتین صرف بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں اور بروقت علاج نہ ملنے کے باعث ان میں سے تقریباً 40 ہزار خواتین لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔

طبی ماہرین اور جراحوں کا کہنا ہے کہ چھاتی کا سرطان ابتدائی مرحلے میں مکمل طور پر قابلِ علاج ہے، تاہم ملک میں اس کے پھیلاؤ اور اموات کی بڑی وجوہات سماجی شرم و ہچکچاہٹ، لاعلمی اور علامات ظاہر ہونے کے باوجود بروقت معائنہ نہ کروانا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں آگاہی مہمات کے باعث مرض کی تشخیص کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ملک بھر میں سکریننگ اور جدید علاج کی سہولیات کی بہتری کے لیے مزید ہنگامی اقدامات درکار ہیں۔ ماہرین نے تجویز دی ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کی ہر خاتون کو سال میں کم از کم ایک مرتبہ مامو گرافی سکریننگ ٹیسٹ لازمی کروانا چاہیے۔