LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانیہ: منشیات اور منی لانڈرنگ کیخلاف کارروائی، خاتون سمیت 12 افراد کو 100 سال سے زائد قید کی سزا بیرسٹر گوہر کا عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے اظہار لاتعلقی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق کردی جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کا ‘ایکس’ اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست: اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرسٹر گوہر کو جواب کے لیے مہلت دے دی گورنر راج غیر آئینی عمل ہے، عدالتیں سیاسی کیسز میں سیاسی فیصلے نہ کریں: بیرسٹر گوہر رواں مالی سال ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے: وزیر خزانہ میر رضا علی کیس: عدالتی کمیشن کی 4 والیوم پر مشتمل رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جاری جنگ جلد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 2 دہشتگرد ہلاک، 104 افغان شہری گرفتار پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے خاتون ٹیچر اور 17 بچے جاں بحق سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی گئی صدر مملکت اور وزیراعظم کا بصارت سے محروم افراد کے حقوق پر زور پی ٹی آئی دور میں خیبر پی کے دہشتگردی کی لپیٹ میں رہا: غیرملکی صحافی

گورنر راج غیر آئینی عمل ہے، عدالتیں سیاسی کیسز میں سیاسی فیصلے نہ کریں: بیرسٹر گوہر

Web Desk

15 October 2026

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف دائر کیس مکمل طور پر بے بنیاد تھا۔ انہوں نے عدالتوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی کیسز میں سیاسی فیصلوں سے گریز کریں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل غیر آئینی عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہر فورم پر گورنر راج کی مخالفت کی ہے اور دہشت گردی کو جواز بنا کر آئینی اور جمہوری عمل کو مفلوج کرنا کسی طور درست نہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے پارٹی رہنماؤں کی گمشدگی اور گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سہیل آفریدی اس وقت پشاور میں زیرِ حراست ہیں اور 11 تاریخ کے بعد سے پارٹی کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ اس کے علاوہ انہوں نے انکشاف کیا کہ جنید اکبر، بابر سلیم سواتی اور شاہد خٹک جیسے اہم رہنماؤں سے بھی رابطہ منقطع ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ محض کھوکھلے نعروں اور زبانی پیشکشوں سے پیش رفت نہیں ہوتی اور کمیٹیوں میں ڈیڈ لاک برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔