LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جے یو آئی کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس طلب؛ مولانا فضل الرحمان میڈیا بریفنگ دیں گے کے پی میں بڑا بیوروکریٹک الٹ پھیر: پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 15 اعلیٰ افسران کے صوبے سے تبادلے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی: گورنر خیبر پختونخوا ایمرجنسی کے بعد پہلا نوٹیفکیشن، فخر عالم چیف سیکرٹری کے پی تعینات ایمرجنسی قابل مذمت، فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، صدرِ مملکت نے منظوری دے دی آئی ایم ایف معاہدہ اور معاشی استحکام بڑی کامیابی؛ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا کوئی جواز نہیں: وزیراعظم شہباز شریف سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے اسلحہ سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی پاکستان کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، سعودی خودمختاری کے تحفظ کا عزم فلوریڈا میں سمندری طوفان سے تباہی، 2 افراد ہلاک، 8 لاکھ صارفین بجلی سے محروم وزیراعظم کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، سعودی خودمختاری کے تحفظ کا عزم اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کا ارکان اسمبلی کی سکیورٹی واپس لینے پر اظہار تشویش، آئی جی کو مراسلہ ارسال کردیا پی ٹی آئی نے گورنر ہاؤس پر چڑھائی کی تو غیر قانونی اقدام کے جرم میں سہیل آفریدی کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے: فیصل کریم کنڈی فلوریڈا میں سمندری طوفان سے تباہی، 2 افراد ہلاک، 8 لاکھ صارفین بجلی سے محروم

ایمرجنسی قابل مذمت، فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے: بیرسٹر گوہر

Web Desk

11 October 2026

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر جمہوری اور سنگین سیاسی غلطی قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اپنے ایک تفصیلی بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے وفاق اور صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرنے سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی دو رائے نہیں اور اس سے قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی ہی سے نمٹا جا سکتا ہے، تاہم طاقت اور غیر معمولی اقدامات کے بجائے آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ‘انا’ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے چند دنوں کے اندر اس فیصلے کو واپس لے، کیونکہ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہے۔