LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بیرسٹر گوہر کا حکومت سے غیر مشروط مذاکرات کا مطالبہ پاکستان اور جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا: رانا ثناء ایم ٹی آنر 25 کے مزید 3 پاکستانی کریو ارکان بھی وطن واپس روانہ سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا

عمران خان کے معائنے میں سپریم کورٹ کے حکم کی تمام ریکوائرمنٹس مکمل کیں: عطا تارڑ

Web Desk

22 August 2026

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے جاری کردہ احکامات اور قانونی ریکوائرمنٹس کو مکمل طور پر شفاف انداز میں پورا کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معائنے کے وقت بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز موقع پر موجود تھے، جبکہ انتظامیہ نے سیکیورٹی سمیت تمام ضروری انتظامات یقینی بنائے۔

وزیرِ اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور حکومت کا موقف ہے کہ قانون کی نظر میں تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے اور کسی کو خصوصی رعایت یا استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت آئین و قانون کی روشنی میں ہی تمام امور کو آگے بڑھائے گی اور اس کیس میں بھی عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا گیا ہے۔