مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے خاتمہ کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں: عاصم افتخار
Web Desk
14 September 2026
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مندوب اور سینئر سفارت کار عاصم افتخار احمد نے نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تنازعات کے پرامن، پائیدار اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق سفارتی حل کے لیے اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مکہ معاہدے کے حوالے سے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل اس سہ فریقی معاہدے میں پاکستان اضافی ذمہ داری لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کا اعتراف اور ادراک کرتے ہیں کہ خطے کی صورتِ حال منفی سمت کی جانب بڑھ رہی ہے، لہٰذا اس تناظر میں پاکستان کو اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
عاصم افتخار نے زور دیا کہ پاکستان کی بنیادی ترجیح خطے میں امن، استحکام، فوری سیز فائر اور تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے، کیونکہ سلامتی کونسل کا بنیادی چارٹر تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ سفارت کاری بتاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جاری تنازع کو پوری دنیا تشویش سے دیکھ رہی تھی اور اس کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کے مابین گفتگو کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان سرفہرست رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ہی حل کیا جانا چاہیے اور یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اقوامِ متحدہ عالمی امن کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔
متعلقہ عنوانات
بین الاقوامی مسافروں کے لیے ڈیجیٹل ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کا پہلا مرحلہ کراچی ایئرپورٹ پر شروع
14 September 2026
سویڈن پارلیمانی انتخابات، ابتدائی نتائج کے مطابق بائیں بازو کی جماعتیں آگے
14 September 2026
شمالی کوریا کا اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ
14 September 2026
روس نے مسافر ٹرین کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، یوکرینی ریلوے حکام کا دعویٰ
14 September 2026
ایران کا اقوام متحدہ سے اسرائیلی جرائم کیخلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ
14 September 2026
اسرائیل اور لبنان کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات آئندہ ماہ اٹلی میں ہوں گے
14 September 2026
حوثیوں کا یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں سعودی فضائی حملوں کا دعویٰ
14 September 2026
یمی سرحد سے متصل 2 علاقوں سے حملوں کا خدشہ، سعودی شہریوں کو خبردار کر دیا گیا
14 September 2026