LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اپوزیشن کمیٹی کے ساتھ اچھا معاہدہ تیار ہوا، سہیل آفریدی نے سبوتاژ کر دیا: محسن نقوی پاک بھارت سرحد پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ، شہید پاکستانی شہریوں کی نمازِ جنازہ ادا وزیراعظم کی محسن نقوی سے ملاقات، خیبرپختونخوا میں امن و امان کیلئے سخت فیصلوں پر غور وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، اپوزیشن سے مذاکرات پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر اتفاق کرکے آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئی: محسن نقوی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ کا مسودہ جاری کر دیا اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: قالیباف پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا آغاز، 5 روڈ منصوبے نجی شعبے کے سپرد ملک بھر میں 257 کارروائیوں میں 700 حوثی جنگجو مارے گئے: یمنی فوج ملک کو انتشار سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی وفد دہشت گردی پر نہیں مانا: امیر مقام و شیری رحمان پی ٹی آئی دہشت گردی پر تعاون سے انکاری، لانگ مارچ اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیں گے: رانا ثناء اللہ کے پی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی، حد سے زیادہ انتظار نہیں ہو سکتا: طلال چوہدری حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا: بیرسٹر گوہر نیویارک: 72 گھنٹے کے گرینڈ آپریشن میں لاپتہ اور انسانی اسمگلنگ کا شکار 34 بچے بازیاب ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ

علیمہ خان کا مقدمہ سیاسی انتقام ہے، بریت کی درخواست دائر: فیصل ملک

Web Desk

22 December 2025

علیمہ خان نے اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کی۔ وکیل فیصل ملک کا کہنا تھا کہ 26 نومبر کے مقدمے میں علیمہ خان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد موجود نہیں، اسی بنیاد پر آج عدالت میں بریت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ ان کے مطابق درخواست کے باوجود گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جو سیاسی انتقامی کارروائی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ علیمہ خان کا کیس تیزی سے چلانا چاہتا ہے اور عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے۔

علیمہ خان نے گفتگو میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ سال 22 نومبر کو پرامن احتجاج کی کال دی تھی اور ان پر صرف یہ الزام ہے کہ انہوں نے بانی کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں کو جھوٹی گواہی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور جھوٹی گواہی دینے والوں کو بھی سزا ملنی چاہیے۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انصاف کا نظام کمزور ہو چکا ہے، اگرچہ عدلیہ میں اچھے ججز موجود ہیں لیکن ان کی بات نہیں سنی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس بوگس ہے اور معمولی الزامات پر سخت سزائیں دی گئیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ رول آف لا کی بات کی اور آج بھی اپنے مقدمات کا سامنا کرنے کے مؤقف پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ملک سے جانے کی آفرز بھی ہوئیں، مگر انہوں نے انکار کیا۔ علیمہ خان نے مزید کہا کہ اے ٹی سی کے ججز بھی کسی منصوبے کے تحت چلتے نظر آتے ہیں، جبکہ میڈیا کے نمائندوں کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی 90 فیصد عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور مذاکرات کی بات کرنے والے بانی کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔