LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی یورپی ممالک بھاری مقدار میں ڈیزل جاری کرنے پر تیار ہوگئے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ دوران پرواز کپتان پر حملہ کرنے والا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبارکا دعویٰ محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں کو مسترد کر دیا پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر

سندھ کے لیے 1018 ارب روپے کی ترقیاتی حکمتِ عملی کی منظوری

Web Desk

22 December 2025

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ترقیاتی حکمتِ عملی اور سرمایہ کاری منصوبوں پر اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ کے لیے 1018 ارب روپے کی جامع ترقیاتی حکمتِ عملی کی منظوری دی گئی، جس میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ انفرا اسٹرکچر پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ تمام نئے منصوبوں میں ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کو لازمی شامل کیا جائے۔ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے تحت 520 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سڑکوں کے انفرا اسٹرکچر کے لیے 582 ارب روپے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ کراچی کے سڑک منصوبوں کے لیے 194 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں شاہراہِ بھٹو، ملیر ندی پل اور انڈر پاسز شامل ہیں۔

تعلیم کے شعبے کے لیے 340 ارب روپے کی سرمایہ کاری، سیلاب سے متاثرہ 1600 اسکولوں کی تعمیرِ نو، سکھر میں خواتین یونیورسٹی اور 9 نئے کیڈٹ کالجز کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ صحت کے شعبے کے لیے 300 ارب روپے مختص کرتے ہوئے 9 ڈی ایچ کیو اسپتالوں کی توسیع اور ایس آئی یو ٹی، این آئی سی وی ڈی اور انڈس اسپتال کے لیے گرانٹس کی منظوری دی گئی۔

واٹر سینیٹیشن کے منصوبوں کے لیے 930 ارب روپے سے زائد، توانائی کے لیے 67.97 ارب روپے اور ریڈ، ییلو و اورنج لائن بی آر ٹی منصوبوں کے لیے 155 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے کے فور اور حب کینال منصوبوں کی سخت نگرانی اور سندھ سولر انرجی منصوبے کے تحت سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن تیز کرنے کی ہدایت دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز منصوبے کے تحت 21 لاکھ گھروں کی بحالی کا ہدف ہے، جبکہ اب تک 14 لاکھ ادائیگیاں مکمل اور تقریباً تین لاکھ خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو باہمی رابطے سے ترقیاتی حکمتِ عملی پر عملدرآمد اور سیلاب متاثرہ و پسماندہ علاقوں کو خصوصی فائدہ دینے کی ہدایت کی۔