LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا کرایوں میں 5 فیصد کمی کا اعلان سلامتی کونسل میں پاکستان کا صدارتی بیانیہ منظور، جنگوں کے دوران سفارت کاری پر زور پاکستان کا بیرونی قرض ایک دہائی میں دوگنا ہو کر 135.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، چین سب سے بڑا قرض دہندہ بابا گرو نانک کا 557 ویں جنم دن، پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول دی چین میں 13ویں انٹرنیشنل آرمی کیڈٹس ویک، پاکستانی کیڈٹس نے سلور میڈل جیت لیا پنجاب کی عدالتوں میں ڈیڑھ ارب روپے کا جعلی کورٹ فیس ٹکٹس سکینڈل بے نقاب پاکستان اور تاجک افواج کی مشترکہ انسدادِ دہشتگردی مشق دوستی سوئم کامیابی سے مکمل اسلام آباد ایئرپورٹ پر اسٹیٹ لاؤنج کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ایران نے جوہری تنازع پر تجاویز قطر کے توسط سے امریکا کو بھجوا دی امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ ترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودیہ کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل ٹرمپ کی شکست پر رابطے بحال؛ ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے ٹیلیفون پر گفتگو ٹرمپ اور نیتن یاہو کی الیکشن میں شکست پر ایران میں جشن؛ پتلے جلادیے گئے حوثیوں کا جنگ بندی کیلیے سعودیہ سے 51 ارب ڈالر ہرجانہ اور حکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودیہ کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی

Web Desk

6 November 2026

ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کی کثرتِ رائے سے باضابطہ توثیق کر دی ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق 600 رکنی ترک پارلیمنٹ میں رائے شماری کے دوران معاہدے کے حق میں 279 ووٹ آئے جبکہ 119 ارکان نے اس کی مخالفت کی؛ یوں مجموعی طور پر 398 ارکان نے ووٹنگ کی کارروائی میں حصہ لیا۔ ترکیہ کے قانون سازوں کی منظوری کے بعد باقاعدہ نافذ العمل ہونے والے اس معاہدے کی بنیادی شق کے تحت کسی بھی ایک فریق ملک پر حملہ تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین نے اس حوالے سے واضح کیا کہ یہ سہ فریقہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اس کا مقصد کسی تیسرے ملک پر حملہ کرنا ہرگز نہیں۔ ترکیہ کی حکمران جماعت ‘جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی’ (AK Party) کے رکن ضیا آلتونیالدز نے کہا کہ اس اہم معاہدے کا بنیادی ہدف خطے میں سیکیورٹی تعاون کو مضبوط اور مربوط بنانا ہے۔

یاد رہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے سربراہان نے رواں برس 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی پروقار تقریب میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے شرکت کی تھی۔ معاہدے میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور عالمی امن و استحکام کے قیام کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔ ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت اتحاد کا مرکزی سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا، جبکہ پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے جو 3 سال کی مدت کے لیے خدمات انجام دیں گے۔