LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
فرانس میں مہنگائی، کم تنخواہوں، تعلیمی سہولتوں کی خرابی کیخلاف احتجاج جاری، ایک روزہ ہڑتال ایران امریکی منظوری کے بغیر جوہری پروگرام سے متعلق کوئی اقدام نہیں کررہا: صدر ٹرمپ روسی صدر کی ایران کیخلاف جنگ ختم کرانے کیلئے تعاون کی پیشکش امریکا اسرائیل کو فرسٹ قرار دینے کی پالیسی کے باعث تباہی کے دہانے پر ہے: باقر قالیباف جے ڈی وینس ایران جنگ سے پیچھے ہٹنے کی بھر پور کوشش کر رہے: عبدل السید اسلام آباد بلدیاتی انتخابات: کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی کرم میں فتنہ الخوارج کی دراندازی ناکام، جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ کوٹ ادو میں تونسہ بیراج پر 120 کنال پر محیط ڈولفن ریزورٹ کھول دیا گیا اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 11 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ میر رضا قتل کیس: تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کا اجلاس 7 نومبر کو طلب مولانا فضل الرحمان کی حکومت پر شدید تنقید: ‘شہباز شریف بے بس نظر آ رہے ہیں، انتقامی حربوں سے نہیں ڈریں گے پاکپتن میں مسافر بس اور ٹرالر میں خوفناک تصادم، 11 افراد جاں بحق، 33 زخمی اتحادی جماعت کا بھی حمایت سے انکار، نیتن یاہو کے دوبارہ وزیراعظم بننے کے امکانات معدوم ہوگئے

سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 نافذ: بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافہ

Web Desk

4 November 2026

سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026ء کا باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد سندھ اسمبلی سے منظور شدہ بلدیاتی ترامیم گورنر سندھ کی حتمی توثیق کے بعد صوبے بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔ ترمیمی ایکٹ کی کاپی میئر کراچی، ڈپٹی میئر اور تمام بلدیاتی نمائندوں کو ارسال کر دی گئی ہے۔

نئے قانون کی رو سے بلدیاتی کونسلوں کی مدت ختم ہونے سے 120 روز قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے درخواست دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ نیا میئر یا چیئرمین منتخب ہونے تک سبکدوش ہونے والے میئر یا چیئرمین بطور ایڈمنسٹریٹر اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین کو کونسل کے اجلاسوں کی صدارت اور کارروائی چلانے کے مکمل اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں، اور ہر 3 ماہ بعد کونسل کے اجلاسوں کا انعقاد اور سال میں کم از کم ایک بار کارکردگی کا انسپکشن لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ترمیمی ایکٹ کے تحت شہریوں کے تنازعات باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے یونین کونسل، ٹاؤن اور میونسپل کمیٹیز کی سطح پر 90 روز کے اندر 3 رکنی ‘مصالحتی فورم’ کا قیام واجب کیا گیا ہے۔ نیز، بلدیاتی نمائندوں اور پولیس کے درمیان امن و امان کے لیے باہمی رابطہ کاری کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے، جبکہ یونین کونسلوں کو ٹھوس کچرے کی صفائی کی نگرانی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کو غیر قانونی تعمیرات کی بروقت نشاندہی کرنے کا قانونی پابند بنایا گیا ہے۔