LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی مڈٹرم انتخابات، خواتین ووٹرز کی اکثریت نے ڈیموکریٹس کی حمایت کی، اے پی سروے اسرائیلی انتخابی کمیشن نے انتخابات کے حتمی نتائج کی تصدیق کر دی ایران پر حملہ فتح نہیں، شکست کا باعث بنتا ہے، اسماعیل بقائی برطانیہ کا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پالیسی حکومت بدلنے سے تبدیل نہیں ہوگی، مجتبیٰ خامنہ ای کوٹ لکھپت جیل میں قید شاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں چکر آنے سے گر کر زخمی مالیاتی خسارہ 2.5 فیصد پر آ گیا، زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر کے ساتھ بلند ترین سطح پر پہنچ گئے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب فیول سبسڈی سے ڈیڑھ کروڑ افراد مستفید، عوام پر توانائی کا بوجھ نہیں ڈالا: وزیراعظم امریکی مڈٹرم انتخابات: متعدد پاکستانی امریکن امیدوار بھی ریاستی انتخابات میں کامیاب امریکی وسط مدتی انتخابات واشنگٹن کا داخلی معاملہ ہے: چین 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور اہلیہ کی اپیلیں 10 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر الینوائے میں ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید نے ری پبلکن کے ڈاربی ہلز کو شکست دیدی ٹرمپ کی شدید مخالفت کے باوجود مشی گن سے عبدل السید مسلم سینیٹر منتخب وسط مدتی انتخابات کیلئے ایلون مسک کی بھاری مالی معاؤنت بھی کام نہ آئی عوام نے تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست کا پیغام دیا: باراک اوباما

مالیاتی خسارہ 2.5 فیصد پر آ گیا، زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر کے ساتھ بلند ترین سطح پر پہنچ گئے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

Web Desk

4 November 2026

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے قلیل مدتی اور مہنگے قرضوں کو 5 سے 10 سالہ طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کر کے ملک کو درپیش رول اوور کے سنگین خطرات سے نکال لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سخت مالیاتی نظم و ضبط کے باعث پاکستان کا مالیاتی خسارہ ساڑھے بارہ فیصد سے گھٹ کر 2.5 فیصد پر آ گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا محض 0.1 فیصد (30 کروڑ ڈالر) رہا۔ وزیر خزانہ کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں اور پاکستان کی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ‘بی مائنس’ سے بہتر ہو کر ‘بی’ ہو گئی ہے، جسے ‘بی پلس’ اور بالآخر ‘ڈبل بی’ کیٹیگری تک لے جانا بنیادی ہدف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کیا جا رہا ہے، جس کے تحت رواں مالی سال بیرونی ادائیگیاں 4 ارب ڈالر اور آئندہ سال مزید کم ہو کر 3.5 ارب ڈالر رہ جائیں گی، تاہم تیل کی عالمی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ کا محتاط انداز میں مقابلہ کیا جا رہا ہے۔