LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چائنا کمیونسٹ پارٹی کا عوام سے جڑے رہنے کا ماڈل قابلِ تقلید ہے: اسحاق ڈار دہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی نااہل حکومت بھی تھی: ترجمان پاک فوج ایرانی 7 نکاتی تجویز پر آئندہ چند روز میں عملدرآمد کا امکان ہے: اسماعیل بقائی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی کا معاملہ: ہائیکورٹ نے ڈی سی لاہور کو طلب کر لیا عظمیٰ بخاری کی ذاتی پیشی کا حکم معطل، وارنٹ گرفتاری پر بھی عملدرآمد روک دیا وفاقی آئینی عدالت: فضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس میں درخواست واپس لینے پر نمٹا دی گئی صحافیوں کیخلاف جرائم پر خاموشی انصاف کی آواز دبانے کے مترادف ہے: بلاول بھٹو پائیدار ترقی کے لئے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال چینی صدر کا مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار حنا بٹ کی کراچی کو لڑکیوں کیلئے جیل قرار دینے پر حنا الطاف کو لاہور آنے کی دعوت مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں اضافے اور نجی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے: وزیر خزانہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات، 5 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ووٹ کاسٹ پنجاب: دیہی خواتین کے روزگار کے لئے بڑا منصوبہ تیار، رجسٹریشن شروع انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ کے زہریلے دھوئیں سے ایک ماہ میں ہزاروں اموات لاہور ہائیکورٹ کا ڈیلی ویجز ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ

ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی کرنا باقی ہے: ٹرمپ

Web Desk

1 November 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور وہ ڈیل کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ زیادہ قابلِ بھروسا نہیں اور ہمیں مذاکرات میں کوئی جلدی نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاع اور جوہری تنصیبات کو پہلے ہی نشانہ بنا چکا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر بقایا ایک یا دو جوہری تنصیبات پر 10 منٹ کے اندر دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے تصدیق کی ہے کہ فی الحال نئے حملے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا جبکہ امریکہ سفارتی حل کا خواہاں ہے۔ دوسری جانب وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کے موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے واشنگٹن کے لہجے میں تبدیلی کو مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔