LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر قانونی جنگ جاری رکھیں گے: اٹارنی جنرل پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، غیرملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے: خواجہ آصف گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہو سکتا تھا: وزیراعظم سندھ ہائیکورٹ کا پارک پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کا حکم پولینڈ میں آئینی عدالت کا سربراہ معطل، پولیس کا ایوان عدل پر قبضہ، شہریوں کا احتجاج مریم نواز سے فرانسیسی سفیر کی ملاقات، پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا: عباس عراقچی ملک بھر میں ایڈز سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ امریکی اداکارہ سیلما بلیئر نے جہاز میں فضائی عملے کو مکے مارنے و کاٹنے پر معافی مانگ لی پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد، غریب، امیر کا معاشی فرق بڑھ گیا عالمی بینک کی سندھ میں پراپرٹی ریونیو بڑھانے کیلئے 15 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری بھارتی تنقید مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کم نہیں کر سکتی: ترک وزیر خارجہ ایران مشرق وسطیٰ کا غنڈہ، مذاکرات کرنا چاہتا، رابطے میں ہے: ٹرمپ طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت جاری، متعدد صوبوں میں حملوں کے دعوے روس اور امریکہ کے تعلقات میں کوئی حقیقی پیشرفت نہیں ہوئی، سرگئی لاوروف

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی محسن رضائی سے براہ راست ملاقات کی پیشکش

Web Desk

30 October 2026

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تحت ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کو براہِ راست ملاقات کی پیشکش کی ہے۔

امریکی اخبار نے ایک باخبر امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے نزدیک محسن رضائی کسی بھی ممکنہ دوطرفہ معاہدے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور کلیدی شخصیت ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس حکام کا یہ پختہ خیال ہے کہ محسن رضائی ایرانی سپریم لیڈر کے انتہائی قریب ہیں، اور یہ مجوزہ ملاقات ترکیہ کے شہر استنبول یا قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے محسن رضائی کو اس حوالے سے باقاعدہ ایک خط بھی ارسال کیا تھا۔

‘واشنگٹن پوسٹ’ کے مطابق، اس خط میں دونوں ملکوں کے باہمی قومی مفادات کو مذاکرات کی بنیادی بنیاد بنانے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی اس وقت سب سے بڑی اور بنیادی ترجیح ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام کو روکنے پر رضامند ہو جاتا ہے تو اس کے بدلے میں اس پر عائد سخت معاشی پابندیاں ہٹا لی جائیں گی۔ علاوہ ازیں، خلیجی ریاست قطر اس پورے معاملے میں ایک اہم اور فعال ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور وہ مسلسل ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے۔