LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان

پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ

Web Desk

28 October 2026

پاکستان اور ڈنمارک کے معروف ادارے ’آئی کارس‘ (ICARS) کے درمیان پولٹری کے شعبے میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت (AMR) کی روک تھام کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں منعقدہ دستخط کی ورچوئل تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے محفوظ متبادل طریقوں پر ایک جامع تین سالہ تحقیقی منصوبہ شروع کیا جائے گا، جس کے لیے آئی کارس تنظیم کی جانب سے 5 لاکھ 40 ہزار 855 امریکی ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اینٹی مائیکروبیل مزاحمت انسانوں اور حیوانوں کی صحت کے ساتھ ساتھ قومی غذائی تحفظ کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، اس لیے پولٹری اور لائیو سٹاک کے شعبے میں اینٹی بائیوٹکس کا ذمہ دارانہ استعمال وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس کی روک تھام کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں۔

رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس سائنسی تحقیق کے مثبت نتائج کا براہ راست فائدہ چھوٹے کسانوں اور پولٹری فارمرز تک پہنچنا چاہیے، کیونکہ پاکستان میں غذائی تحفظ اور لائیو سٹاک کی پائیدار ترقی کے لیے بین الاقوامی سطح پر تحقیقی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس اہم مسئلے کے تدارک کے لیے تعاون فراہم کرنے پر ڈینش حکومت اور آئی کارس کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت ملک کے 30 پولٹری فارمز پر اینٹی بائیوٹکس کے مؤثر متبادل کے طور پر نامیاتی تیزابوں (Organic Acids) کی افادیت کا بغور جائزہ لیا جائے گا، جبکہ اس پورے پروجیکٹ کا بنیادی ہدف پولٹری کی صحت اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کیے بغیر اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کم از کم 20 فیصد تک کمی لانا ہے۔