LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی چین نے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا امریکا کیساتھ معاہدہ: روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا

پاکستان کا خلیجی جنگ میں لاپتہ افراد کی تلاش اور شناخت کا عمل تیز کرنے پر زور

Web Desk

28 October 2026

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ سن 1990 میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد سے لاپتہ ہونے والے کویتی شہریوں کی تلاش، شناخت اور ان کے انجام کا تعین کرنے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ کئی دہائیوں سے اپنے پیاروں کے منتظر خاندانوں کو ذہنی سکون مل سکے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جادون نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ رپورٹ کے زیرِ جائزہ عرصے کے دوران کسی بھی نئے لاپتہ شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ 1990 اور 1991 کے المناک واقعات کے دیرپا انسانی اثرات کو ختم کرنے کے لیے لاپتہ کویتی شہریوں اور تیسرے ممالک کے لاپتہ افراد کے انجام کا تعین کرنا، ان کی باقیات کو احترام کے ساتھ اہل خانہ کے حوالے کرنا اور کویتی املاک کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔ عثمان جادون نے عراق اور کویت کی جانب سے باہمی احترام کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مثبت سفارتی پیش رفت لاپتہ افراد کی تلاش اور سرکاری دستاویزات کی واپسی کے عمل کو آگے بڑھانے میں اہم بنیاد ثابت ہوگی۔ پاکستانی مندوب نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کویتی املاک، خصوصاً قومی آرکائیوز اور تاریخی ریکارڈ کی تلاش اور ان کی مکمل واپسی کو اولین ترجیح دی جانی چاہئے۔