اپوزیشن رہنماؤں کی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کی شدید مذمت،انصاف کے منافی قرار دیدیا
Web Desk
20 December 2025
اپوزیشن رہنماؤں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو میں سزا کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انصاف کے منافی قرار دے دیا۔ خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم توشہ خانہ ٹو میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دی گئی سزا کی مذمت کرتے ہیں، اس طرح کے فیصلوں سے عوام میں انتشار پھیلے گا. تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا کہ جو حق کی بات کرتے ہیں ان کو سزا دینا انصاف نہیں ہے، لوگ اس پر سوال اٹھائیں گے، ملک میں اربوں روپے کی چوریاں اور کرپشن ہوئیں سب کو معلوم ہے، ضمیر بیچیں اور ضمیر خریدیں تو آپ اچھے پاکستانی ہیں۔ اخترمینگل نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو سزا کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، کیا اس سے پہلے وزرائے اعظم نے توشہ خانہ سے کچھ نہیں لیا؟ ان کو سزا ملی کیا؟، اس ملک کو دولخت کیا گیا، کیا ان کو سزا ملی؟۔ اختر مینگل نے کہا کہ جنہوں نے ملک اور آئین توڑا انکو گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت کیا گیا، یہ سب ناانصافی کی مثالیں ہیں۔ اس ملک میں قانون،انصاف اور آئین کی بالادستی ہوتی تو ہم آج اس طرح نہ بیٹھے ہوتے، آئین طاقتوروں کے لیے بنایا جاتا ہے، جس کے پاس طاقت اسے ہی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، ملک کے عوام اور پارلیمنٹ غیر متعلقہ ہوچکی ہے، انصاف نہیں مل رہا، پارلیمنٹ ہاؤس میں عوام کے حق پرڈاکہ ڈالنے کا انتظام کیا جاتا ہے، حکومت کی کوشش ہے ہمیں مایوس کرے لیکن یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو ملنے والی سزا کی مذمت کرتے ہیں، یہ صرف سیاستدانوں کے ستھ نہیں ہورہا بلکہ ایمان مزاری کو عوام کی آواز بننے پر مقدمہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مطیع اللہ جان پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، جسٹس جہانگیری ک جرم اتنا تھا کہ اس نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت اور الیکشن کیسز کو جلد نمٹانا تھا۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ اس فیصلے نے انصاف کے نظام کو ایکسپوز کردیا، آج پتہ چل گیا کہ پاکستان کی عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا، ہمارے پی ٹی آئی ورکرز پر 65 ہزار مقدمات ہیں، اب ہمیں عدالتوں کا بائیکاٹ کردینا چائیے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی فیصلوں سے خلا پیدا ہورہا ہے جو انتہائی خطرناک ہے، ہم آج کی کانفرنس کے ذریعے فاصلے کم کرنا چاہتے تھے لیکن اس فیصلے سے ثابت ہوگیا آپ نہیں چاہتے ہم فاصلے کم کریں، اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے نہ آئینی ہے نہ قانونی ہے بلکہ غیر انسانی ہے۔ زبیر عمر نے کہا کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی کو ملنے والی سزا پر دکھ ہوا ہے، یاسمین راشد، عمر چیمہ میاں. محمود الرشید، اعجاز چوہدری کی سزا پر بھی دکھ ہوا۔ ملک میں عدلیہ کو ختم کردیا گیا ہے، بغیر ٹرائل کے فیصلے ہوں گے تو کون اعتماد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں گزشتہ روز سزائیں ہوئیں انکا جرم کیا ہے کسی کو نہیں معلوم، 70 ،70 سال عمر کے رہنماؤں کو سزائیں سنادی گئیں، یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟، جب تک حکومت کو گرانے کا فیصلہ نہیں ہوگا ظلم اسی طرح ہوتا رہے گا۔
متعلقہ عنوانات
اپوزیشن کمیٹی کے ساتھ اچھا معاہدہ تیار ہوا، سہیل آفریدی نے سبوتاژ کر دیا: محسن نقوی
4 October 2026
پاک بھارت سرحد پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ، شہید پاکستانی شہریوں کی نمازِ جنازہ ادا
4 October 2026
وزیراعظم کی محسن نقوی سے ملاقات، خیبرپختونخوا میں امن و امان کیلئے سخت فیصلوں پر غور
4 October 2026
وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، اپوزیشن سے مذاکرات پر تبادلہ خیال
4 October 2026
خیبرپختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر اتفاق کرکے آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئی: محسن نقوی
4 October 2026
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ کا مسودہ جاری کر دیا
4 October 2026
اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: قالیباف
4 October 2026
پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا آغاز، 5 روڈ منصوبے نجی شعبے کے سپرد
4 October 2026