آئی ایم ایف سے رعایتیں لینے کیلئے وزارتوں سے تجاویز طلب
Web Desk
20 December 2025
حکومت نے معاشی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور بجٹ میں حقیقت پسندی لانے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ممکنہ رعایتیں حاصل کرنے کی غرض سے تمام معاشی وزارتوں سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر کیے گئے جائزے کے بعد کیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ موجودہ معاشی ڈھانچہ نہ تو غیر ملکی سرمایہ کاری کو مؤثر انداز میں متوجہ کر پا رہا ہے اور نہ ہی پائیدار معاشی نمو فراہم کر سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزارتوں کے ساتھ پہلی مشاورتی نشست کی، جس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر تجاویز مانگی گئیں۔ اجلاس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ کون سی سفارشات آئندہ بجٹ سے قبل نافذ کی جا سکتی ہیں اور کن پر اگلے بجٹ کے ساتھ عملدرآمد ہونا چاہیے۔ یہ مشاورت ستمبر 2027 تک جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں کی گئی۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کے موجودہ 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے خاتمے کے بعد پروگرام سے نکلنے کی تیاریوں پر بھی غور شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے آئی ایم ایف سے مستقل نجات کو 2029 تک برآمدات 63 ارب ڈالر تک بڑھانے سے مشروط قرار دیا ہے، جس کیلئے آئندہ 4 برس میں برآمدات میں 100 فیصد اضافہ درکار ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے تمام معاشی وزارتوں کو ایک پروفارما ارسال کیا ہے، جس میں پائیدار معاشی ترقی کیلئے تجاویز، ان کا میکرو اکنامک تجزیہ، درکار سبسڈیز اور ٹیکس آمدن پر اثرات کی تفصیل طلب کی گئی ہے۔ ان تجاویز کو حتمی شکل دے کر آئی ایم ایف کے ساتھ ویٹنگ کیلئے اٹھایا جا سکتا ہے۔
ایک دوست ملک نے آئی ایم ایف میں پاکستان کی حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی ہے تاکہ ترقی میں رکاوٹ بننے والے اقدامات میں نرمی حاصل کی جا سکے، تاہم ذرائع کے مطابق حکومت کیلئے آئی ایم ایف کو قائل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
وزیراعظم کے پینل کی جانب سے ایک ہزار ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کی تجویز دی گئی ہے، مگر آئی ایم ایف معمولی ٹیکسوں میں نرمی پر بھی آمادہ نظر نہیں آتا۔ اسی تناظر میں پلاننگ کمیشن نے سول و عسکری قیادت کو کم معاشی نمو، کم سرمایہ کاری اور بڑھتی بے روزگاری سے آگاہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب نے حال ہی میں معیشت کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستانی صنعتوں میں برآمدات کیلئے مکمل ویلیو چین موجود نہیں اور پالیسیوں میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فریم ورک کے تحت 12 مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کا ہدف ہے کہ مارچ تک یہ تمام جائزے مکمل کر کے سعودی سرمایہ کاری لائی جائے اور فروری کے آخر میں ہونے والے آئی ایم ایف ریویو میں کچھ ریلیف حاصل کیا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
ملک کو انتشار سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی وفد دہشت گردی پر نہیں مانا: امیر مقام و شیری رحمان
4 October 2026
پی ٹی آئی دہشت گردی پر تعاون سے انکاری، لانگ مارچ اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیں گے: رانا ثناء اللہ
4 October 2026
کے پی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی، حد سے زیادہ انتظار نہیں ہو سکتا: طلال چوہدری
4 October 2026
حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا: بیرسٹر گوہر
4 October 2026
ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ
4 October 2026
سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا روٹ میپ جاری کر دیا
4 October 2026
لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہئے: بیرسٹر گوہر
4 October 2026
لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا: رانا ثنا اللہ
4 October 2026