LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر پر بھارت کے خلاف مذمتی قرار داد منظور ملتان: زیرتعمیر عمارت کی چھت گرنے سے مزدور ملبے تلے دب گئے، ایک جاں بحق سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، معلوماتی راہداری عوام کو قریب لائےگی: عطا تارڑ وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کر دی قصور: 2 نابالغ بچیوں کے زبردستی نکاح کی کوشش ناکام بنا دی گئی آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کیلئے پاکستانی سکواڈ کا اعلان سردیوں میں صارفین کو روزانہ صرف 8 گھنٹے گیس ملنے کا امکان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کے دوران مثبت رجحان پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا: مریم نواز ایف ڈبلیو او کی کارکردگی انتہائی ناقص، ایوان مطمئن نہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بلاول بھٹو زرداری کا کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا: اقوام متحدہ کا انکوائری کمیشن یمنی افواج کے 24 گھنٹے میں حوثی ملیشیا پر 1276 حملے، 382 کمانڈر و اہلکار نشانہ بنے وزیراعظم سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی آج ملاقات طے

ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کی اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل، ٹرائل فوراً روکنے کی استدعا

Web Desk

26 October 2026

ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ نے انسدادِ دہشت گردی دفعات کے اخراج اور ٹرائل پر حکمِ امتناع سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے بغیر مناسب وقت دیے جلد بازی میں کارروائی کا آغاز کیا اور ایک ہی دن میں استغاثہ کے گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی بیریئرز ہٹانا دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا اور یہ ٹرائل محض حراساں کرنے، سیاسی انتقام اور ملزمان کو جیل میں رکھنے کا ذریعہ ہے۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ اگر ٹرائل کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو ہائیکورٹ میں زیر التواء مرکزی درخواست غیر موثر ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ 19 اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسدادِ دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق درخواستوں میں عبوری حکم کی استدعا مسترد کرتے ہوئے صرف نوٹسز جاری کیے تھے۔