LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کہنیوں میں اسکریو ڈرائیور سے سوراخ کیے گئے، حنا جاوید قتل کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی پاک بھارت جنگ کے دوران 11طیارے گرائے گئے، تمام جنگیں رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، صدر ٹرمپ میلانیا ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان اولیشکی میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان حملوں کی صورت میں خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنایا جائے گا، ایران ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا، سعودی فوجی اتحاد پیرس میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، 12 سالہ بچی سمیت 5 افراد شدید زخمی پاکستانی انڈر 21 ہاکی ٹیم سلطان آف جوہر ہاکی کپ کے فائنل میں پہنچ گئی زمینی کارروائی کی تو ایران حملہ آوروں کا قبرستان بن جائے گا: پاسداران انقلاب ترکیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد حل قرار دیدیا جنوبی مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں فائرنگ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3زخمی ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے دوہرا معیار ختم کرنے کا مطالبہ مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہیں، احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں: باقر قالیباف امریکی صدر کی ایران کیخلاف ایک اور بڑے آپریشن کی دھمکی آر فور ممالک کا اجلاس، سعودیہ کیساتھ اظہار یکجہتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ این سی سی آئی اے کے نوٹس پر جاوید ہاشمی کا ردعمل: اپنے لفظوں پر قائم ہوں، گرفتاری سے نہیں ڈرتا

کہنیوں میں اسکریو ڈرائیور سے سوراخ کیے گئے، حنا جاوید قتل کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

Web Desk

24 October 2026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قتل ہونے والی حنا جاوید کیس کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس نے ملزمان کے وحشیانہ تشدد کے خوفناک حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی کہنیوں میں اسکریو ڈرائیور (پچکس) سے سوراخ کیے گئے تھے جبکہ ان کے سر کے پچھلے حصے پر 27 سینٹی میٹر گہرا زخم پایا گیا۔ رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ تشدد کے باعث حنا جاوید کی گردن ٹوٹی ہوئی تھی اور ان کے چہرے، بازوؤں، ہاتھوں اور ہونٹوں پر شديد زخموں اور نیل کے نشانات موجود تھے۔

واضح رہے کہ حنا جاوید کو 20 اگست کو گھر کے اندر بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی لاش باتھ روم میں شاور کے ساتھ لٹکی ہوئی ملی تھی۔ پولیس نے کیس میں نامزد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کر رکھا ہے۔

مقتولہ کے اہلخانہ نے مقامی پولیس کی تفتیش پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی نے بھی کیس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے 29 اکتوبر کو اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران اور مقتولہ کے لواحقین کو پیشی کے لیے طلب کر لیا ہے۔