LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمود اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات کیلئے تیسری جگہ مقرر کرنے کی شرط مسترد لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز سرکاری عہدہ ملازمت نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ ہے: مریم نواز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ بند، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے سانحہ پشاور: سکول کی عمارت ناقص تعمیر کے باعث منہدم ہوئی، رپورٹ پولیس چیف کو ارسال پاکستان نے علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے مؤثر کردار ادا کیا: رضوان سعید

ایران جنگ: امریکی میزائل دفاعی ذخائر 2030 تک کمی برقرار رہنے کا خدشہ

Web Desk

16 October 2026

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز (CBS News) کی سنسنی خیز رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکا کے جدید ترین میزائل دفاعی ذخائر (Missile Defense Stockpiles) شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ تھاڈ (THAAD) اور پیٹریاٹ (Patriot) انٹرسیپٹرز کے ذخائر سال 2030ء تک انتہائی خطرناک اور کم ترین سطح پر رہنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل 2026ء کے آغاز میں امریکا کے پاس تقریباً 2,300 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز تھے جن میں سے اندازاً 1,050 سے 1,430 تک استعمال کیے جا چکے ہیں، جبکہ 355 تھاڈ انٹرسیپٹرز میں سے 190 سے 290 استعمال ہو چکے ہیں۔ ذخائر میں اس شدید کمی کی بنیادی وجوہات ایران جنگ کے علاوہ یوکرین اور اسرائیل کو مسلسل دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سابق امریکی آرمی چیف جنرل رینڈی جارج نے جنگ سے دو ماہ قبل اس قلت سے خبردار کیا تھا، جس کے بعد امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ (Pete Hegseth) نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

دوسری جانب، پینٹاگون نے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر فعال ہیں اور امریکا کے پاس کسی بھی وقت عالمی سطح پر کارروائی کے لیے درکار تمام ہتھیار وافر مقدار میں موجود ہیں۔