خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی
Web Desk
11 October 2026
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ آسان نہیں تھا اور صوبائی حکومت کو ساتھ ملانے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے تک کوششیں کی گئیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران مسودے پر مکمل اتفاق کے باوجود اچانک نیا مسودہ پیش کر دیا گیا، جس کے باعث تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔ اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 200 فیصد اضافہ ہو چکا تھا جس کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اقدام ضروری ہو گیا تھا؛ انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جا رہا ہے اور گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ کے پی کے انتظامی حالات تباہی کے دہانے پر تھے اور پی ٹی آئی انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر غیر سنجیدہ رہی، جس کے بعد صوبائی حکومت کو غیر فعال کر کے آئینی طریقہ کار اپنایا گیا۔
متعلقہ عنوانات
مچھ میں ٹرک اور وین میں خوفناک تصادم، 7 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمی
11 October 2026
خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس، عوام کو دہشتگردی نے نجات دلائیں گے: گورنر
11 October 2026
میناب سکول حملے میں 168 افراد شہید ہوئے، امریکا کو جواب دہ بنائیں گے: ایران
11 October 2026
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں: مولانا فضل الرحمان
11 October 2026
آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا گزیٹ نوٹیفکیشن جاری
11 October 2026
آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری
11 October 2026
وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا کے نامزد اضلاع میں ایریا ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ قائم کرنے کا حکم
11 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسائل کا حل نہیں، جمہوریت دشمنی کا سفر جاری ہے: حافظ نعیم الرحمان
11 October 2026