LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس، عوام کو دہشتگردی نے نجات دلائیں گے: گورنر میناب سکول حملے میں 168 افراد شہید ہوئے، امریکا کو جواب دہ بنائیں گے: ایران خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں: مولانا فضل الرحمان آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا گزیٹ نوٹیفکیشن جاری آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا کے نامزد اضلاع میں ایریا ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ قائم کرنے کا حکم خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسائل کا حل نہیں، جمہوریت دشمنی کا سفر جاری ہے: حافظ نعیم الرحمان خیبر پختونخوا کے حکومتی امور سے متعلق وفاقی حکمنامہ جاری، 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی وفاقی دارالحکومت میں ریڈ الرٹ جاری: حساس عمارتوں پر رینجرز تعینات، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتاریوں کا حکم پختونخوا میں ایمرجنسی: اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جے یو آئی کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس طلب؛ مولانا فضل الرحمان میڈیا بریفنگ دیں گے کے پی میں بڑا بیوروکریٹک الٹ پھیر: پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 15 اعلیٰ افسران کے صوبے سے تبادلے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی: گورنر خیبر پختونخوا ایمرجنسی کے بعد پہلا نوٹیفکیشن، فخر عالم چیف سیکرٹری کے پی تعینات

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی

Web Desk

11 October 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ آسان نہیں تھا اور صوبائی حکومت کو ساتھ ملانے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے تک کوششیں کی گئیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران مسودے پر مکمل اتفاق کے باوجود اچانک نیا مسودہ پیش کر دیا گیا، جس کے باعث تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔ اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 200 فیصد اضافہ ہو چکا تھا جس کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اقدام ضروری ہو گیا تھا؛ انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جا رہا ہے اور گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ کے پی کے انتظامی حالات تباہی کے دہانے پر تھے اور پی ٹی آئی انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر غیر سنجیدہ رہی، جس کے بعد صوبائی حکومت کو غیر فعال کر کے آئینی طریقہ کار اپنایا گیا۔