LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں: نیویارک ٹائمز بچوں کے خون سے سودا کرنے والوں سے کیا مذاکرات کریں: دانیال چودھری پاکستان اور ویٹیکن کا بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر اتفاق ماہ ستمبر 2026 کے دوران ملک میں 5 ہزار 241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ سہیل آفریدی کا شارٹ مارچ دہشتگرد تنظیموں کے حق میں ہے: عظمیٰ بخاری ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار، اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا: سلمان اکرم راجہ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا علیمہ خان کیخلاف کیس کا فیصلہ پھر مؤخر، سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت ملتوی پاکستان اور بحرین کا تجارت، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مریم نواز کا پنجاب کے ہر ضلع میں پی ایچ اے قائم کرنے کا فیصلہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد ہلاک وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

سندھ میں تقرریاں نہ لینے والے 63 میں سے 20 سب رجسٹراروں کی معطلی سفارش

Web Desk

8 October 2026

سندھ کے بورڈ آف ریونیو میں مبینہ کرپشن، پسند و ناپسند اور قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ترقی پانے کے بعد نئی جگہوں پر تقرریوں سے انکار کرنے والے کل 63 سب رجسٹراروں میں سے مبینہ طور پر دوہرے معیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 20 افسران کو معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ 43 بااثر اور منظورِ نظر افسران کو کارروائی سے بچا لیا گیا ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ نے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ کو متنازع سمری ارسال کی ہے۔

ذرائع کے مطابق معطلی سے بچائے گئے 43 افسران کا تعلق اہم سیاسی شخصیات اور موجودہ و سابق صوبائی وزرا سے ہے، جس کے باعث سارا ملبہ صرف 20 بے بس افسران پر ڈال دیا گیا ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق ترقی قبول نہ کرنا افسر کا قانونی حق ہے، تاہم اس معاملے میں قوانین کو پسِ پشت ڈال کر انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس تمام تر اقدام کا مقصد 6 ماہ کی لازمی تربیت مکمل کیے بغیر کراچی سمیت دیگر اہم شہروں کے منافع بخش عہدوں پر پسندیدہ افسران کو تعینات کرنا ہے۔ متاثرہ سب رجسٹراروں نے اس ناانصافی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔