LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی فوج کا طویل جنگ کیلئے مکمل تیاری اور پیشگی کارروائیوں کا اعلان ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کی تصدیق اسلام آباد پر لشکر کشی کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، تمام وسائل بروئے کار لائیں گے: خواجہ آصف 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کو شکست دی: حافظ نعیم الرحمان بیلاروسی وفد کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات محسن نقوی، طلال چوہدری سے برطانوی وزیر مملکت خارجہ امور سٹیفن ڈوٹی کی ملاقات صومالی بحری قزاقوں سے بازیاب تین پاکستانی کراچی پہنچ گئے ایران افزودگی کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا، ایرانی عہدیدار عالمی مسائل کے حل کیلئے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کا کردار مزید اہم ہو گیا: اسحاق ڈار سینیٹر فاروق ایچ نائیک جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی ہمسایہ ممالک سے مذاکرات جاری، دشمن کو مایوس کرینگے: مسعود پزشکیان ایرانی اسپیکر کا داخلی سکیورٹی اور معاشی استحکام مزید مضبوط بنانے پر زور حکومت اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں ہونے دے گی: طارق فضل چودھری فیلڈ مارشل سے انتونیو گوتریس کی ملاقات: سکیورٹی، کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر تبادلہ خیال ایران نے ہتھیاروں کی رینج بڑھانے کی پالیسی واضح کردی

بیوی کی واضح اور آزادانہ رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جاسکتی، سپریم کورٹ کا اہم تحریری حکم نامہ جاری

Web Desk

7 October 2026

سپریم کورٹ نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ بیوی کی واضح اور آزادانہ رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی۔ عدالت عظمیٰ کے حکم نامے کے مطابق تنسیخِ نکاح کی درخواست کو خاتون کی رضامندی کے بغیر خلع میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہے، اور ظلم و زیادتی ثابت نہ ہونے پر عدالت خود خلع کا انتخاب نہیں کر سکتی کیونکہ خلع اور قانون کے تحت تنسیخِ نکاح الگ راستے ہیں جن کے مالی نتائج بھی مختلف ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ غیر رضاکارانہ خلع کے ذریعے خاتون کو حق مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلہ میں دو خواتین کے نکاحوں کی تنسیخ کو خلع کے بجائے ’شقاق‘ (شدید اور مسلسل ازدواجی اختلاف) کی بنیاد پر برقرار رکھا گیا، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ معمولی جھگڑے یا عارضی علیحدگی شقاق کے لیے کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے بامعنی مصالحت کی ناکامی اور عدالت کا مطمئن ہونا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے خلع کی بنیاد پر حق مہر واپس کرنے یا چھوڑنے کی ہدایات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں مقدمات میں نان نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق فیصلے برقرار رکھے ہیں۔