LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنگ ختم کرنے کیلئے تیار، ایران کو یورینیم افزدگی کم کرنا ہوگی: امریکا کا دوٹوک مؤقف اپوزیشن جماعتوں کا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پر مشاورت کا فیصلہ مذاکرات کی پیشکش موجود، پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرنا ہو گا: رانا ثناء اللہ بحیرہ احمر میں امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کی خبر بے بنیاد ہے: امریکی سینٹکام ابوظہبی میں اے آئی ایوری تھنگ گلوبل 2026، پاکستان پویلین کا افتتاح بانی پی ٹی آئی کے کزن قاسم زمان کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری اسحاق ڈار سے برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈاؤٹی کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز عطا کردیا گیا روسی لیب ورکر کی پراسرار موت، رابطے میں 4 افراد میں کورونا اور رائنو وائرس کی تصدیق عالمی امن کے لیے مکالمے اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا: یوسف رضا گیلانی اسرائیلی فوج ہائی الرٹ، حماس کے ممکنہ حملے پر غزہ کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی: کاٹز ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول یقینی بنایا جائے: شرمیلا فاروقی محمود اچکزئی نے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کیلئے ہدایات جاری کر دیں امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے: انتونیو گوتریس وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کرنے کی پیشکش

روس میں طاعون کے ممکنہ کیس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں: امریکی صدر

Web Desk

5 October 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا روس میں سائبیریا کے مقام پر سامنے آنے والے طاعون (Pneumonic Plague) کے ممکنہ کیس کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر ماسکو کی ہر ممکن طبی اور سائنسی مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن کو روس میں ممکنہ نمونیائی طاعون کے واقعے اور پیش آنے والے خطرات کی اطلاع حال ہی میں موصول ہوئی ہے، جس پر امریکی ادارے کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ حیاتیاتی اور انسانی صحت سے جڑے اس قسم کے خطرناک واقعات پر عالمی تعاون ضروری ہے، اور امریکا اس بحران سے نمٹنے کے لیے روسی حکام کو ہر ممکن سپورٹ اور امداد فراہم کرے گا۔ یہ بیان سائبیریا کی لیبارٹری میں خاتون محقق کی پراسرار ہلاکت اور 200 سے زائد افراد کے قرنطینہ کیے جانے کی رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر بین الاقوامی برادری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔