LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایمان مزاری اور شوہر کے خلاف فرد جرم ٹل گئی معاشی استحکام بنیادی ضرورت، برآمدات پر توجہ دے رہے ہیں: محمد اورنگزیب 9 مئی کیسز: علیمہ خان اور عظمیٰ خانم کی عبوری ضمانت میں توسیع پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان نائجیریا میں فوجی طیارہ دریا کے قریب گر کر تباہ، تمام 32 افراد جاں بحق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے مکمل ہوجائیں گے امریکی رہنما رچرڈ گرنیل کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ: “انہیں فوری رہا کیا جائے ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو ریفائنری پر حملوں کا حوثی دعویٰ، سعودی اتحاد کی بحیرہ احمر پر جوابی کارروائی امریکا میں پاکستانی نژاد تحرک کی حمایت: پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون روکنے کی ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد امریکا کی غیر ملکی مالیاتی اداروں کو ایران سے لین دین پر پابندیوں کی دھمکی امریکا کی اتحادی ممالک کو 2.27 ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان کے فروخت کی منظوری نیویارک میں خسرے کی وبا کے باعث ایمرجنسی نافذ پی ٹی آئی انتشار کی سیاست کر رہی، ریاست یرغمال بنانے نہیں دیں گے: اختیار ولی سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچ گیا، آج پشاور روانگی

مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج، علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا

Web Desk

5 October 2026

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں خطے کی انتہائی کشیدہ صورتحال اور عسکری پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد ریاض پہنچ رہا ہے۔ ترک وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشر گلر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان کی دعوت پر اس اہم اجلاس میں شریک ہوں گے تاکہ اس اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوششوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ اہم اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف ایک بڑی اور جامع فوجی کارروائی کے آغاز کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اپنے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ قومی دفاعی کونسل کے فیصلوں کی روشنی میں تمام مقبوضہ علاقوں پر ریاستی اختیار بحال کرنے اور ملک کو حوثیوں سے آزاد کرانے کے لیے عسکری عملیات شروع کر دیے گئے ہیں۔ یہ اعلان گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر اچانک قبضے کے بعد جنگی صورتحال میں ایک نیا اور شدید موڑ ثابت ہو رہا ہے۔