LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، 2 پاؤنڈ فی لٹر تک پہنچ گئی سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی

میرے پاس عراق میں رہنے کا آپشن تھا لیکن بہتر وزیراعظم چھوڑ کر جا رہے ہیں:ٹرمپ

Web Desk

30 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج کا آخری دستہ عراق سے روانہ ہو رہا ہے، جس کے ساتھ ہی عراق میں دہائیوں سے جاری امریکی عسکری موجودگی کا مکمل خاتمہ ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج عراق میں ایک بہترین اور باصلاحیت وزیراعظم کو امورِ حکومت سونپ کر واپس لوٹ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اربیل ایئر بیس سے بین الاقوامی اتحادی افواج اور عسکری آلات و سامان کا مکمل انخلا عراق میں امریکی فوجی مشن کے باقاعدہ اختتام کی واضح علامت ہے۔

امریکی صدر نے اس پیش رفت کو امریکہ کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ داعش (ISIS) کے خلاف حتمی اور مکمل فتح کا مظہر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے پاس عراق میں امریکی افواج کا قیام برقرار رکھنے کا آپشن موجود تھا، تاہم انہوں نے فوجیوں کی وطن واپسی کا حتمی فیصلہ کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اربیل سے تمام افواج کا انخلا ایک انتہائی منظم طریقے سے جاری ہے اور یہاں افغانستان جیسے جلد بازی اور افراتفری کے حالات پیدا نہیں ہوں گے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ عراقی وزیراعظم ملک کے تمام تر معاملات کو بہترین اور پائیدار طریقے سے چلائیں گے، اور امریکہ کا عراق میں انسدادِ دہشت گردی کا مشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے۔