LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، چین کے دل ایک دوسرے سے جڑے اور ایک ساتھ دھڑکتے ہیں: وزیراعظم ایف بی آر کی انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت، سندھ بہت پیچھے رہ گیا: حافظ نعیم الرحمان آبنائے ہرمز میں 4 تجارتی جہازوں پر حملے، عالمی توانائی بحران کا خدشہ ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا عراق سے امریکی افواج کا انخلا مکمل، کل ’یوم خودمختاری‘ منانے کا اعلان پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پارلیمانی امور پر مشاورت، اجلاس میں اہم معاملات زیر غور پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کرسچن میرج بل 2026 کی منظوری دے دی پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کیلئے پرعزم ہے: اسحاق ڈار ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت آئی پی پیز نے ملک کی کمر توڑ دی، سسٹم کو بدل کر ضلعی معیشت پر جانا ہوگا، ایس ایم تنویر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلا کی فہرست جیل حکام کے حوالے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، الوداعی دورہ دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ

پاکستان 2027 میں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس کی میزبانی کرے گا: احسن اقبال

Web Desk

29 September 2026

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال نے 25ویں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون (CAREC) کانفرنس میں شرکت کی اور سے خطاب کیا۔ اس دورے کے دوران وفاقی وزیر نے کیریک کیپیٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ فورم اور آسیان کیپیٹل مارکیٹس فورم کے درمیان باضابطہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے، جس کا مقصد کیریک اور آسیان ممالک کے درمیان کیپیٹل مارکیٹس میں باہمی تعاون اور روابط کو فروغ دینا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے اعلان کیا کہ پاکستان سال 2027 میں کیریک کانفرنس کی چیئرمین شپ سنبھالنے اور 26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کیریک کوریڈورز 5 اور 6 کے ذریعے خطے کے وسطی ایشیائی ممالک کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کا خواہاں ہے، اور اب سوال صرف ٹرکوں کے گزرنے کا نہیں بلکہ اس راستے کو کاروبار کے لیے انتہائی قابلِ اعتماد اور منافع بخش بنانے کا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ روایتی علاقائی راہداریوں کو اگلی نسل کے جدید اقتصادی کوریڈورز میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، ڈیجیٹل روابط، توانائی اور قدرتی آفات سے تحفظ کا ایک مربوط نظام بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ چین کو مکمل کرنے کے لیے سڑکوں، جدید سرحدی سہولیات، ریل فریٹ، ڈرائی پورٹس اور بندرگاہوں کو مؤثر انداز میں جوڑنا ہوگا، جبکہ تورخم اور چمن بارڈر پر جدید سرحدی سہولیات کی فراہمی علاقائی تجارت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

احسن اقبال نے تجویز دی کہ اسٹریٹجک مقامات پر لاجسٹکس اور پیداواری مراکز قائم کر کے ٹرانزٹ ٹریفک کو برآمدات اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جہاں کولڈ اسٹوریج، پیکیجنگ، گودام اور ہلکی صنعتیں مقامی معیشت کو سہارا دے سکتی ہیں۔ انہوں نے خطے میں کیریک ڈیجیٹل کوریڈور کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان سنگل ونڈو’ علاقائی تجارت کے ڈیجیٹل انضمام کی بہترین بنیاد بن سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کوریڈور کی اصل کامیابی تبھی ممکن ہے جب وہ محض سامان کی نقل و حمل کی بجائے سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع فراہم کرے اور مقامی آبادیوں کو بھی معاشی خوشحالی میں برابر کا حصہ دار بنائے۔