خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے، کچھ بھی ہوسکتا ہے: امیر مقام
Web Desk
28 September 2026
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے پشاور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے غیر قانونی اقدامات کے باعث صوبے میں گورنر راج لگانے کے تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی ایک نفیس انسان ہیں، تاہم موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام ایک عرصے سے دہشت گردی کا عذاب جھیل رہے ہیں اور پوری قوم جانتی ہے کہ کے پی کے غیور عوام اس جنگ میں کتنی بڑی قربانیاں دے رہے ہیں، لیکن نام نہاد تبدیلی سرکار نے صرف وزرائے اعلیٰ بدلنے کے علاوہ عوام کی قسمت بدلنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مسلسل 13 سال تک صوبے پر حکومت کی، لیکن عوام کو وہ ترقی اور بنیادی سہولیات نہیں مل سکیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ موجودہ وزیراعلیٰ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا کوئی تجربہ نہیں ہے، اور انہیں صرف دو ہی ٹاسک دیے گئے ہیں؛ پہلا یہ کہ جتنا لوٹ سکتے ہو لوٹو، اور دوسرا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے تگ و دو کرو۔
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی اور طرزِ حکومت سے اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے صوبائی حکومت کے عناصر دہشت گردوں کے ساتھ مل گئے ہوں، اور آج پورے صوبے میں دہشت گردوں کا راج قائم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی پی اور چیف سیکرٹری کو اپنے ماتحت کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ تھانوں کی بولیاں لگائی جا سکیں، لیکن اس قسم کے غیر آئینی اقدامات سے پولیس فورس کا مورال شدید متاثر ہوگا۔
امیر مقام نے مزید کہا کہ راستوں کی بندش اور لانگ مارچ کے نام پر صوبے اور اسلام آباد کے عوام کو شدید مشکلات میں دھکیلا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پہلے 27 ستمبر کو نکلنے کا اعلان کیا تھا، لیکن جب رپورٹ ملی کہ کوئی عوام ساتھ نہیں نکلے گی تو لانگ مارچ کو 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سہیل آفریدی کا بطور وزیراعلیٰ آگے چلنا اب ناممکن ہے، وہ نہ تو پارٹی کے اندر ٹک سکیں گے اور نہ ہی باہر، اور وزارت اعلیٰ سے فارغ ہونے کے بعد وہ لوٹ مار کے الزامات کے تحت جیل کے اندر ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تو اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ مذاکرات کی بات کی تھی، لیکن کسی ایک قیدی کے ذاتی ایجنڈے اور مجرمانہ پس منظر پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دیگر قومی ایشوز پر بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں، مگر قانون سے بالاتر ہو کر کسی کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔
متعلقہ عنوانات
راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے میں 61 ملزمان گرفتار
28 September 2026
لاہور میں اجتماعی زیادتی کی شکار غیر ملکی لڑکی عدالت پیش، بیان قلمبند کرا دیا
28 September 2026
شنگھائی تعاون تنظیم کا کوآرڈینیشن اجلاس، بھارتی وفد کی اسلام آباد آمد
28 September 2026
پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم، مالی معاونت میں ملوث ہے: وفاقی وزرا
28 September 2026
ٹانک: پولیس وین پر دہشت گردوں کا حملہ، فائرنگ سے 3 اہلکار شہید
28 September 2026
نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا
28 September 2026
میر رضا علی قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت ختم، کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی
28 September 2026
اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث اٹک پل اور راستوں کی بندش کے خلاف کیس
28 September 2026