LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کل سے شروع ہوں گے، معاشی کارکردگی اور اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی امریکی فضائی اڈے کے قریب ہنگامی صورتحال، متعدد افراد گرفتار نورستان جھڑپ، پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات مسترد کر دیے: وزراتِ اطلاعات بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشتگرد ہلاک پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور کا لائیو ویپن فائرنگ کا شاندار مظاہرہ امریکی ایف بی آئی کی مطلوبہ فہرست میں شامل مفرور پاکستانی نژاد ڈاکٹر زاہد الاسلام سے متعلق نیا بیان جاری اقوام متحدہ میں شہباز شریف کا خطاب فلسطینی مشن نے سوشل میڈیا پر نمایاں کر دیا وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی علی امین گنڈاپور کے گھر آمد جنوبی افریقہ میں فائرنگ کے دو واقعات میں 27 افراد ہلاک، متعدد زخمی حکومت ملک بھر میں سیاحت کے فروغ کیلئے فعال اقدامات کر رہی ہے: وزیراعظم رمضان قادروف 99.85 فیصد ووٹ لیکر پانچویں مرتبہ چیچنیا کے سربراہ منتخب امریکا اور چین کا 30 ارب ڈالر کی اشیاء پر ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ دشمن کیلئے ’سرپرائز‘ تیار، حملوں پر نئی فوجی ٹیکنالوجی سے جواب دیا جائے گا: ایران پنجاب میں ٹورازم کا بے پناہ پوٹینشل ہے، مریم نواز ڈی آئی خان: درازندہ چیک پوسٹ دھماکے میں شہید 3 اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

نورستان جھڑپ، پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات مسترد کر دیے: وزراتِ اطلاعات

Web Desk

27 September 2026

پاکستان نے نورستان میں ہونے والی مبینہ جھڑپوں سے متعلق افغان طالبان حکومت کی طرف سے عائد کردہ تمام الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے انہیں سراسر بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کے جاری کردہ بیان کے مطابق، پاکستان کا نورستان یا افغانستان کے کسی بھی دوسرے حصے میں ہونے والی اندرونی جھڑپوں سے دوردور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستانی حکام نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے نورستان میں کسی بھی کارروائی میں ملوث ہونے کے دعوے سراسر جھوٹے ہیں، جبکہ سابق افغان اہلکاروں کی تربیت یا بھرتی اور داعش سمیت کسی بھی دہشت گرد گروہ کی مبینہ سہولت کاری کے تمام الزامات بھی مسترد کیے جاتے ہیں۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے ملوث ہونے کا آج تک کوئی بھی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اور نہ ہی ان الزامات کے حق میں کسی افراد کی شناخت، کوئی سرکاری دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ یا فارنزک شواہد فراہم کیے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ ویڈیوز بھی کسی بھی طرح پاکستان کے ساتھ اس کے تعلق کو ثابت کرنے سے قاصر ہیں۔

وزارتِ اطلاعات نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ اقوام متحدہ کی مسلسل رپورٹس خود اس بات کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پر متعدد خطرناک دہشت گرد تنظیمیں تاحال فعال ہیں، اور افغان سرزمین پر موجود یہ دہشت گرد گروہ پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ خود دہشت گردوں کو پناہ دینے والی طالبان حکومت کی جانب سے الٹا پاکستان پر اس قسم کے الزامات عائد کرنا انتہائی باعثِ تعجب ہے۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی داخلی سلامتی کے سنگین مسائل کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کے بجائے خود اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیاں عمل میں لائے۔ حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے اور اپنے اس وعدے کی سختی سے پاسداری کرنی چاہیے کہ افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔