LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ میں شہباز شریف کا خطاب فلسطینی مشن نے سوشل میڈیا پر نمایاں کر دیا وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی علی امین گنڈاپور کے گھر آمد جنوبی افریقہ میں فائرنگ کے دو واقعات میں 27 افراد ہلاک، متعدد زخمی حکومت ملک بھر میں سیاحت کے فروغ کیلئے فعال اقدامات کر رہی ہے: وزیراعظم رمضان قادروف 99.85 فیصد ووٹ لیکر پانچویں مرتبہ چیچنیا کے سربراہ منتخب امریکا اور چین کا 30 ارب ڈالر کی اشیاء پر ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ دشمن کیلئے ’سرپرائز‘ تیار، حملوں پر نئی فوجی ٹیکنالوجی سے جواب دیا جائے گا: ایران پنجاب میں ٹورازم کا بے پناہ پوٹینشل ہے، مریم نواز ڈی آئی خان: درازندہ چیک پوسٹ دھماکے میں شہید 3 اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے بعد دوبارہ ایران پر بمباری کا امکان ظاہر کر دیا جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو بحرہند میں بھی امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنائیں گے: پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ مذاکراتی معاہدے سے مشروط ہے، عباس عراقچی بہاولپور: این اے 168 ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ جاری، 20 امیدوار میدان میں حوثیوں کا بچوں کو زبردستی بھرتی کر کے جنگی محاذوں پر بھیجنے کا انکشاف اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کے باہر کشمیری امریکی کمیونٹیز کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

امریکا اور چین کا 30 ارب ڈالر کی اشیاء پر ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ

Web Desk

27 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی تین روزہ اہم سربراہی ملاقات کے بعد امریکا اور چین نے تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑے پیشرفت کرتے ہوئے 30 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی اور مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں اقتصادی قوتوں نے دونوں اطراف سے 30 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا کے لیے زیادہ سازگار اور لچکدار ٹیرف پالیسی اپنانے کی سفارشات پر اتفاق کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت امریکا سے چین برآمد ہونے والی زرعی مصنوعات، لکڑی اور کاسمیٹکس جبکہ چین سے امریکا درآمد ہونے والی چھوٹی گھریلو اشیا، کھلونے اور آرائشی سامان اس ٹیرف ریلیف کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ، تجارتی تنازعات اور امور پر مسلسل رابطے کے لیے ایک نئی ٹریڈ کونسل قائم کرنے اور کوالالمپور میں ہونے والے سابقہ مذاکرات کے فیصلوں کو آگے بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم پیشرفت کے تحت امریکا اور چین نے مصنوعی ذہانت کے فوائد اور اس کے ممکنہ خطرات پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں آئندہ مذاکرات نومبر میں ہوں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت سے جڑے کسی بھی ہنگامی واقعے یا خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی رابطہ چینل بھی قائم کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اب روایتی مصنوعی ذہانت کے بجائے ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جسے چین کی جانب سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کا یہ دورۂ امریکا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے اور دوطرفہ سیاسی و معاشی روابط کو مجموعی طور پر استحکام بخشنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگا۔ یاد رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اپنا تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد بیجنگ واپس پہنچ گئے ہیں۔