LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین اور امریکا اپنی عوام کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ امریکا، ایران کی ڈیڈ لاک ختم کرنیکی کوششیں، جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر غور لبنانی وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، خودمختاری کے احترام پر زور لانگ مارچ کی تیاریوں پر اپوزیشن کی بڑی بیٹھک، خیبرپختونخوا کی صورتحال کا جائزہ نیتن یاہو کا جہاز گزرنے کیوں دیا؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا فرانس پر دوہرے معیار کا الزام 80 ممالک کا آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ، ایران، حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت فرانس کا سعودی اہم بندرگاہ ینبع کے تحفظ کیلئے فوجی وسائل فراہم کرنے کا اعلان ٹرمپ کی تین خبر رساں اداروں پر عائد پابندی غیر آئینی قرار امید ہے ترکیہ دوبارہ امریکا کے F-35 لڑاکا طیارے کے پروگرام میں شامل ہو جائیگا: اردگان روسی علاقوں پر رات گئے یوکرینی ڈرون حملے: 40 ڈرون تباہ، آئل ڈپو کو نقصان امریکا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر اسرائیل مخالف مظاہرہ برطانوی رائل ائیرفورس کا جنگی طیارہ تربیت کے دوران گر کر تباہ جدید ترین امریکی لڑاکا طیارے F-35 کے حساس پرزے چین کے ہاتھ لگ گئے ‘امریکا اور ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں’ ، چینی صدر شی جن پنگ کا صدر ٹرمپ سے مطالبہ سی این این سمیت 3 بڑے میڈیا اداروں کے نمائندوں کو بالآخر وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت مل گئی

ٹرمپ کی تین خبر رساں اداروں پر عائد پابندی غیر آئینی قرار

Web Desk

25 September 2026

وائٹ ہاؤس نے وفاقی جج ٹم کیلی کے فیصلے کے بعد معروف خبر رساں اداروں سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS Now) اور پولیٹیکو (Politico) کے صحافیوں کو پریس کوریج کی مکمل رسائی بحال کر دی ہے۔ وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان تینوں میڈیا اداروں پر عائد کردہ پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے 14 روز کے لیے معطل کر دیا تھا اور اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کرنا آئینی آزادیِ اظہار رائے اور صحافت کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے میڈیا پر اس پابندی کا دفاع کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے خدشات سے جوڑا تھا، تاہم جج کیلی نے ان دلائل کو شواہد کے بغیر قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔ ابتدائی عدالتی احکامات کے باوجود وائٹ ہاؤس کے سیکیورٹی عملے نے کچھ رپورٹرز کا داخلہ روکا اور پولیٹیکو کے نمائندے کا پاس ضبط کر لیا، جس پر تینوں اداروں نے فوری عدالتی سماعت کی درخواست دائر کی۔ عدالت کے سخت موقف کے بعد وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے متاثرہ صحافیوں کو پریس پاسز دوبارہ جاری کر کے ان کی وائٹ ہاؤس تک رسائی بحال کر دی ہے۔