LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحادی فورس کا حوثی ملیشیا کے 6 بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ مصطفیٰ کمال نے پاکستان کو بچانے کیلئے نئے صوبے لازم و ملزوم قرار دیدیئے پاکستانی و لبنانی وزرائے اعظم کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ شرجیل میمن سندھ حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں: علی خورشیدی وزیراعظم کی بنگلہ دیشی ہم منصب سے ملاقات، تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اظہار اطمینان نیتن یاہو کی تقریر، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے 77 ممالک کے وفود کا واک آؤٹ برطانیہ یوکرین تنازع کا باقاعدہ فریق بننے کے قریب پہنچ چکا ہے، روس صدر پوتن کو جی 20 اجلاس میں شرکت کی امریکی دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: کریملن کارکن کے قتل پر پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکرٹری کا شدید اظہارِ مذمت پاکستان، امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنیکی ضرورت ہے: گورنر سندھ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی اوگرا نے آر ایل این جی کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد کمی کردی فلسطینی صدر کا جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب، غزہ میں قتل عام روکنے کا مطالبہ یورپی پارلیمانی وفد کی اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات، جی ایس پی پلس پر تبادلہ خیال اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز تعیناتی کی منظوری

معاشی بحران اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی: امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کو بڑی برتری کا امکان

Web Desk

23 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوام میں مسلسل گرتی ہوئی مقبولیت اور بگڑتے ہوئے معاشی حالات کے باعث آئندہ مڈ ٹرم (وسط المدتی) انتخابات میں حکمران ریپبلکن پارٹی کو شدید سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سی این این (CNN) اور ایس ایس آر ایس (SSRS) کے حالیہ سروے کے مطابق، امریکہ بھر میں ووٹرز نے ریپبلکنز کے مقابلے میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کو 8 پوائنٹس کی نمایاں برتری دے دی ہے۔

سروے رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری (Approval Rating) گر کر محض 33 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ صرف 13 فیصد امریکی ان کی پالیسیوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ معیشت کے محاذ پر عوامی ردِعمل انتہائی منفی ہے؛ صرف 27 فیصد امریکی ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے مطمئن ہیں اور محض 20 فیصد افراد افراطِ زر (مہنگائی) سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات کو درست سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دو تہائی عوام کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے ملک کی معاشی صورتحال کو مزید خراب کیا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جاری جنگ، نئی تجارتی ٹیرفس (Tariffs) اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام شہریوں کے مالیاتی حالات کو شدید متاثر کیا ہے۔

سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن میں 44 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا ووٹ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ایک احتجاجی پیغام ہوگا، جبکہ محض 19 فیصد افراد ان کی حمایت میں ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز اور حامی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ریپبلکنز کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ پرعزم اور متحرک نظر آ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت قائم ہونے کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔