LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات محسن نقوی کی سربراہ پاسداران انقلاب سے ملاقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو آبنائے ہرمز میں جہازوں کیلئے نئی پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ مقرر مسلسل اصلاحات اور مضبوط ذخائرپاکستان کے معاشی منظر نامےکو سہارا دے رہے ہیں: اے ڈی بی او آئی سی مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست رکھے: اسحاق ڈار پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بالاتر ایک اتحاد، 96 واں سعودی قومی دن پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب حکومت کی فوج و رینجرز کی تعیناتی کی درخواست پنجاب بھر میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری ایران نے اپنا مؤقف اور شرائط امریکا تک پہنچا دیں: اسماعیل بقائی سعودی قومی دن پر صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کو مبارکباد اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا علم اور اخلاق جارح دشمن کا ہاتھ کاٹ سکتے ہیں، ایرانی سپریم لیڈر نیویارک میں امریکی و ایرانی وفود کی ملاقات امریکا کے اصرار پر ہوئی، ایرانی میڈیا بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کیلئے سعودی خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ کے نام سے 24 گھنٹے چلنے والا چینل لانچ کر دیا

ایران جنگ نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں نیا بحران پیدا کر دیا: امریکی میڈیا

Web Desk

22 September 2026

ایران میں جاری جنگی تنازع اور خطے کی صورتحال نے تیل کی عالمی مارکیٹ اور بحری ترسیل کے نظام میں ایک نیا اور شدید بحران پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث خام تیل لے جانے والے سپر ٹینکرز (VLCCs) کی شدید قلت ہو گئی ہے। امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ کے مطابق، ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کی اہم ‘ایسٹ ویسٹ پائپ لائن’ کی عارضی بندش کی وجہ سے خام تیل کی ایک بڑی مقدار کو دوبارہ نجی شٹل سروسز کے ذریعے آبنائے ہرمز کی طرف منتقل کرنا پڑا۔ اس تبدیلی نے پہلے سے دباؤ کا شکار آئل ٹینکرز پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس بحران کے اثرات اب عالمی سطح پر پھیل چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے ارد گرد طویل سفر اور بحری جہازوں کے شٹل سروسز میں مصروف ہونے کی وجہ سے آئل ٹینکرز کے یومیہ کرائے تاریخ کی ریکارڈ ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ خلیج فارس کے اندر سے تیل لوڈ کر کے آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل کرنے والے سپر ٹینکر کا یومیہ کرایہ 10 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جو کہ فی بیرل 26 ڈالر یا خام تیل کی کل مالیت کا ایک چوتھائی بنتا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر سپر ٹینکرز کی اوسط یومیہ کمائی 6 لاکھ 51 ہزار ڈالر سے زائد ہو چکی ہے۔ دوسری جانب حوثی حملوں کے خطرے کے پیشِ نظر بحری جہازوں نے باب المندب کا راستہ چھوڑ کر افریقہ میں ‘کیپ آف گڈ ہوپ’ کے طویل راستے سے سفر شروع کر دیا ہے، جس سے فی جہاز 10 لاکھ ڈالر کا اضافی خرچ آ رہا ہے۔