LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قوم کو جینے دو، پٹرول پر جگا ٹیکس کسی صورت قبول نہیں: حافظ نعیم الرحمان یوکرینی حملے روسی انتخابات متاثر نہ کرسکے، مذاکرات کیلئے تیار ہیں: کریملن حوثیوں پر حملے کی تیاری مکمل، ٹرمپ نے آخری مرحلے میں فیصلہ بدل دیا 23 ستمبر سے ایرانی ایئرلائنز پر عالمی پابندی ہوگی: امریکی وزیر خزانہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی: جے ڈی وینس عالمی مارکیٹ میں خام تیل سستا، فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے نیچے آگئی روس، یوکرین جنگ دنیا کیلئے تباہ کن، فوری خاتمہ ضروری ہے: ٹرمپ بانی پی ٹی آئی سے منگل کو وکلا کی ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال را، طالبان انٹیلی جنس اور دہشتگرد گروہوں کے مبینہ گٹھ جوڑ کا انکشاف وائٹ ہاؤس میں رسائی پر پابندی، میڈیا اداروں کا عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، وزیراعظم سیاسی کمیٹی بنائیں: سینیٹ اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس لاہور ہائیکورٹ: علیمہ خان کی 3-MPO کے تحت نظر بندی کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر ایم کیو ایم پاکستان کا 27 ستمبر کو پی آئی بی اسٹیڈیم میں جنرل ورکرز اجلاس کا اعلان احتجاج ہمارا حق،27 ستمبر کو پوری قوت کے ساتھ نکلیں گے: سہیل آفریدی امریکا کا ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار

وائٹ ہاؤس میں رسائی پر پابندی، میڈیا اداروں کا عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان

Web Desk

21 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں رسائی پر پابندی کے خلاف بین الاقوامی خبر رساں اداروں سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS Now) اور پولیٹیکو (Politico) نے مشترکہ طور پر عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تینوں میڈیا اداروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی بحال کرانے اور پریس پاسز کی منسوخی کے خلاف امریکی آئین کی فرسٹ امینڈمنٹ (پہلی ترمیم) کے تحت مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا قانونی کارروائی کے ان کے صحافیوں کے پاسز منسوخ کیے، جو کہ آزادیٔ صحافت اور بنیادی آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ نیوز اداروں نے واضح کیا کہ حکومت یا انتظامیہ یہ طے نہیں کر سکتی کہ میڈیا کیا رپورٹ یا شائع کرے۔ واضح رہے کہ 19 ستمبر کو ان تینوں اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکتے ہوئے ان کے پاسز غیر فعال اور ضبط کر لیے گئے تھے، جسے اب قانونی طور پر چیلنج کیا جا رہا ہے۔