LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرے گا، ڈنمارک اسرائیلی فوج کی غزہ اور جنوبی لبنان میں بمباری، غزہ میں 3 افراد شہید

امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے

Web Desk

19 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے اور اہم قانون پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت روس پر وسیع پیمانے پر معاشی و تجارتی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جبکہ ایران پر عائد موجودہ امریکی پابندیوں کی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) کی جانب سے روانہ کیے گئے اس پابندیوں کے بل کو صدر کے دستخط کے بعد اب امریکی قانون کی باضابطہ حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

اس تصویب شدہ قانون کے تحت روس کے اعلیٰ حکام، اہم مالیاتی اداروں، بینکوں اور دیگر ریاستی کمپنیوں پر نئی سخت پابندیاں لاگو کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں قانون میں روس کے توانائی اور تجارتی شعبوں کو نشانہ بنانے کے لیے خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن کے تحت امریکی صدر کو یہ مکمل اختیار اور قانونی چھتری فراہم کی گئی ہے کہ وہ روسی خام تیل اور قدرتی گیس کے بڑے عالمی خریداروں اور درآمد کنندگان پر ۱۰۰ فیصد تک اضافی محصولات (Tariffs) عائد کر سکیں۔

دوسری جانب، اس قانون کے ذریعے ۱۹۹۶ء کے تاریخی ‘ایران سینکشنز ایکٹ’ (Iran Sanctions Act) کی مدت میں بھی باضابطہ طور پر اگلے ۵ سال کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔ اس توسیع کے بعد امریکی انتظامیہ کو تہران کی معاشی، تجارتی اور دفاعی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور اس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کا اختیار آئندہ سالوں کے لیے بھی برقرار رہے گا۔