LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حملہ کرکے بچ نکلنے کا دور ختم ہوچکا، جارحیت کا بھرپور جواب دینگے: ایران مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026-2031 کی منظوری دے دی راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر روس کی امریکا پر شدید تنقید روس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ دبئی ایئرپورٹ پر پانچ سیکنڈ میں امیگریشن کلیئرنس، ریڈ کارپٹ منصوبے کو ایوارڈ دینے کا اعلان خیبر پختونخوا کی ترقی امن کے قیام سے جڑی ہے: گورنر فیصل کریم کنڈی نواز شریف کی ایون فیلڈ سے روانگی، کارکنوں کے ساتھ تصویریں بھی بنوائیں پاکستان میں 100 ارب ڈالر کی برآمدات حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے: احسن اقبال اسرائیل کا نیا سکیورٹی نظریہ ناکام ہوچکا ہے، ابراہیم عزیزی روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید 3 پیسے سستا ہوگیا ایران کا آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز کو بارودی سرنگوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ اردگان کا شام میں انتشار پھیلانے کی کوشش پر اسرائیل کو سخت انتباہ برطانیہ کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان یکم جنوری سے بجلی کا نیا ٹیرف 27.30 روپے فی یونٹ کرنے کی تجویز

چین نے مشرق وسطیٰ و افریقہ میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی اپنی صلاحیت بڑھا لی

Web Desk

18 September 2026

امریکی معروف تھنک ٹینک ‘سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز’ (CSIS) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین نے افریقی ملک جبوتی میں قائم اپنے واحد اور باضابطہ طور پر تسلیم شدہ بیرونِ ملک عسکری اڈے کو جدید ترین آلات سے لیس کر کے مزید فعال بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، تجارتی سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ چینی فوجی اڈے پر نئے اینٹینا، جدید سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور دیگر الیکٹرانک آلات نصب کیے گئے ہیں، جس سے چین کی مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے علاقوں میں ملٹری سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی اور انٹیلی جنس جمع کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سال 2024ء کے وسط سے اس اڈے پر قائم دو نئے مواصلاتی کمپلیکس ممکنہ طور پر چین کے وسیع انٹیلی جنس اور عسکری کمانڈ سسٹم کا حصہ ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں موجود چینی افواج کا بیجنگ میں قائم مرکزی ملٹری ہیڈکوارٹرز سے رابطہ مضبوط بناتے ہیں۔ 2017ء میں قائم ہونے والا یہ اڈہ باب المندب، خلیجِ عدن اور بحیرہ احمر کے انتہائی اہم عالمی بحری تجارتی راستے پر واقع ہے، اور یہاں سے امریکہ، فرانس، اٹلی اور جاپان کے فوجی اڈے صرف 16 کلومیٹر کے فاصلے کے اندر موجود ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حوثیوں، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ علاقائی تنازعات کے باعث اس چینی اڈے کی تزویراتی اور انٹیلی جنس اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔