LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں: 17 دہشت گرد ہلاک، 9 جوان شہید، بھاری اسلحہ برآمد شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی طاقت اور دباؤ سے مطالبات منوانے کا یک طرفہ نظام ختم ہو چکا، باقر قالیباف چین نے مشرق وسطیٰ و افریقہ میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی اپنی صلاحیت بڑھا لی پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج: سویڈن کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا اقوام متحدہ کا اجلاس: فلسطینی صدر کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت مل گئی حوثیوں کے حملے: عرب ممالک اور یورپی یونین کا سعودیہ سے مکمل اظہار یکجہتی

پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج: سویڈن کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

Web Desk

18 September 2026

سویڈن کے وزیراعظم اولف کرسٹرسن (Ulf Kristersson) نے ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے حتمی اور نتائج سامنے آنے کے بعد اپنے عہدے سے باضابطہ استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کر دیا ہے۔ سویڈش الیکشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ حتمی اعداد و شمار کے مطابق، سابق وزیراعظم میگڈالینا اینڈرسن (Magdalena Andersson) کی قیادت میں مرکز سے بائیں بازو کے اپوزیشن اتحاد نے 176 نشستیں حاصل کر کے پیش قدمی کی، جبکہ اولف کرسٹرسن کے مرکز سے دائیں بازو کے برسرِ اقتدار اتحاد کو 173 نشستیں ملیں۔ واضح رہے کہ میگڈالینا اینڈرسن سال 2021ء میں سویڈن کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں۔

انتخابی نتائج کے بعد میگڈالینا اینڈرسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن اب ایک نئی اور مثبت سمت اختیار کرے گا۔ ان کے بقول، گزشتہ چار سال کے دوران کرسٹرسن حکومت نے امیگریشن اور کرائم کے خلاف سخت تر پالیسیاں اپنائیں، جس کے باعث ملک میں بعض اقلیتی طبقے اور افراد خود کو خوش آمدید محسوس نہیں کر رہے تھے۔ تاہم سویڈن میں نئی حکومت کی تشکیل ایک پیچیدہ مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ممکنہ اتحادی ‘سینٹر پارٹی’ نے شرط رکھی ہے کہ وہ ‘لیفٹ پارٹی’ کی موجودگی میں کسی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، جبکہ ‘گرین پارٹی’ مرکز سے بائیں بازو کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔ اگر اینڈرسن اکثریت ثابت نہ کر سکیں تو کرسٹرسن کا دائیں بازو کا اتحاد سینٹر پارٹی کو ساتھ ملانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ سویڈش آئین کے مطابق اگر پارلیمنٹ وزیراعظم کے لیے مسلسل چار نامزد امیدواروں کو مسترد کر دے تو ملک میں ازسرِنو انتخابات کرانا لازمی ہو جائیں گے۔