LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں: 17 دہشت گرد ہلاک، 9 جوان شہید، بھاری اسلحہ برآمد شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی طاقت اور دباؤ سے مطالبات منوانے کا یک طرفہ نظام ختم ہو چکا، باقر قالیباف چین نے مشرق وسطیٰ و افریقہ میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی اپنی صلاحیت بڑھا لی پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج: سویڈن کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا اقوام متحدہ کا اجلاس: فلسطینی صدر کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت مل گئی حوثیوں کے حملے: عرب ممالک اور یورپی یونین کا سعودیہ سے مکمل اظہار یکجہتی حکومت مطالبات ماننے کو تیار نہیں، 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمان یورپی یونین کا یوکرین کو 3.3 ارب یورو فراہم کرنے کا اعلان کینیڈا اور یورپ کو قریبی اتحاد قائم کرنا چاہئے: وزیراعظم مارک کارنے کا مطالبہ

سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی

Web Desk

17 September 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ‘سانحہ پمز’ (PIMS Tragedy) سے متعلق جمع کرائی گئی پولیس اور انتظامیہ کی تحقیقاتی رپورٹ کو ناقص قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ کمیٹی اجلاس کے دوران چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زیری نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ داران کے خلاف فوری طور پر مقدمہ (ایف آئی آر) درج کرنے اور سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) پمز کو فوراً گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس تحقیقاتی رپورٹ میں سابق ای ڈی پمز کا نام تک شامل کیوں نہیں ہے اور انہیں کون بچانے کی کوشش کر رہا ہے؟ کمیٹی نے واقعے کی نئے سرے سے انکوائری، جامع فرانزک رپورٹ اور ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

وفاقی پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پمز اسپتال کی ایمرجنسی میں آتشزدگی کی اطلاع وائرلیس کنٹرول کے ذریعے موصول ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی جہاں ریسکیو آپریشن جاری تھا۔ اس دلخراش سانحے میں گائنی وارڈ اور چلڈرن ایمرجنسی کے 14 نوزائیدہ بچے دم گھٹنے اور جھلسنے سے جان کی بازی ہار گئے تھے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی نے اسے شدید مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے تمام ملوث حکام کے خلاف فوجداری کارروائی بلا تاخیر شروع کرنے کا سخت ترین حکم دیا ہے۔